اشاعتیں

ستمبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہمارے ہیڈ سر

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 3 پسندیدہ اخبارات اور لکھاری              شروع شروع میں ہیڈ سر کے آفس میں روزانہ”ایکسپریس“ اخبار آتا تھا۔ ان دنوں سوشل میڈیا اتنا مشہور نہیں ہوا تھا۔ لوگوں کے گھروں میں باقاعدگی سے ان کا پسندیدہ اخبار آتا تھا ۔ اس کا یہ فائدہ ہوتا تھا کہ والدین کے ساتھ ساتھ بچّے بھی اخبار پڑھ لیا کرتےتھے۔ اتوارکے روز اکثر بڑے اخبار میں کوئی میگزین بھی ہوتا تھا۔ اس میگزین کی وجہ سے بہن بھائیوں میں خوب لڑائی ہوتی تھی۔ بڑا اچھا دور تھا۔ گھروں میں کتابیں بھی ہوتی تھیں۔  بچّے اخبارات ، میگزین اور کتابیں پڑھتے تھے۔ ان سے ان کی اردو اچھی ہوجاتی تھی۔ اب تو سب کچھ بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہم سے اور ہمارے بچّوں سے اخبارات اور کتابیں پڑھنے کی عادت چھین لی ہے۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ ہیڈ سر شروع میں صرف ”ایکسپریس“ کا مطالعہ کرتے تھے۔بعد میں اخبارات میں ان کا شغف مزید بڑھ گیا۔ پھر وہ ”ایکسپریس“ کے ساتھ ساتھ ”امت “ کا بھی مطالعہ کرنے لگے۔ اس کے علاوہ ”القلم“ کا بھی مطالعہ کرتے تھے۔ ”القلم “ ہفتے می...

ہمارے ہیڈ سر

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 2 ہیڈ سر کی طرف سے انعام             میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا۔ سر عبد الوہاب ہمیں انگلش گرامر پڑھاتے تھے۔وہ بہت اچھے طریقے سے گرائمر سمجھاتے تھے۔   ان کے گھنگریالے بال تھے   اور وہ چشمہ پہنتے تھے۔ وہ ہمیں Parts of Speech سمجھاتے تھے۔ پہلے  انھوں نے Noun   کے بارے میں سمجھایا، پھر Pronoun   کے بارے میں ۔ غالباً جب وہ Adjective   پر پہنچے تو انھوں نے کہا: ”بچو! آج سمجھانے کے بعد آپ کا ٹیسٹ بھی لوں گا۔“ چناں چہ سمجھانے کے بعد ہماری استعداد کے مطابق انھوں نے ٹیسٹ لیا۔ میں نے سب سے اچھا ٹیسٹ دیا۔ ہمارے سکول میں ٹیسٹ کے لیے الگ سے کاپی ہوتی تھی۔ انگلش ٹیسٹ کی الگ کاپی ہوتی تھی۔ جب کہ اردو اور اسلامیات   کا ٹیسٹ ایک ہی کاپی میں ہوتا تھا۔ سرعبد الوہا ب نے میرا ٹیسٹ چیک کیا تو بالکل درست تھا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر وہ کاپی کے پچھلے اوراق دیکھنے لگے تو ہر ٹیسٹ میں Good, Very Good, Excellent وغیرہ جیسے ریمارکس تھے۔ وہ اور زیادہ خوش ہوئے۔   انھوں نے اپن...

ہمارے ہیڈ سر

تصویر
   تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 1 سکول میں پہلا دن              یہ 5 جنوری 2002ء کا دن تھا۔ ابّو مجھے برائٹ پبلک سکول میں داخلے کے لیے لے گئے۔ جیسے ہی ہم دفتر میں داخل ہوئے، ہمیں دو شخصیات کرسیوں پر براجمان نظر آئیں۔ان میں سے ایک سکول کے    بانی اور پرنسپل محترم سر    غلام نبی قریشی مرحوم تھے۔ ان کو ہم ہیڈ سر کہتے تھے۔ دوسرے سر عبد الستّارمرحوم تھے۔ ہم ان کو سر ستّار کہتے تھے۔              ہیڈ سر، والد صاحب کو بڑے اچھے طریقے سے ملے۔    وہ ابّو کے دوست بھی تھے۔ ابّو نے ان کو مدّعا بتایا تو    وہ بڑے خوش ہوئے۔ ابّو نے ان کو بتایا کہ بچّہ پہلے مدرسے میں ٹیوشن پڑھتا تھا۔وہاں یہ چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ اب آپ اس کا ٹیسٹ لے لیں ۔ یہ جس کلاس کے لائق ہو، اس میں بٹھادیں۔ہیڈ سر نے دفتر کے سامنے موجود کلاس سے انگریزی کی کتاب منگوائی۔ یہ دوسری کلاس کی کتاب تھی، جو رہبر پبلشرز کی شائع کردہ تھی۔ ہیڈ سر نے اس کتاب کے پہلے سبق ...

تعلیم میں حوصلہ افزائی کی اہمیت

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق        خلیق ایک کُند ذہن بچہ تھا۔ وہ سبق یاد کرنے کی بہت کوشش کرتا تھا، مگر اسے   صحیح طریقے سےیاد نہیں ہوتا تھا۔ اس کوپڑھانے والے تمام   اساتذہ اس سے نالاں تھے۔ حالاں کہ اس   میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔ تقریباً سارے استاد اسے   ہر روز ڈانتے تھے۔ کبھی کبھار کسی سخت گیر استاد سے اسے ماربھی کھانی پڑ جاتی تھی۔ وہ کوشش کرتا تھا کہ استادوں کو سبق یاد کرکے خوش کر سکے، مگر بے سود۔ اس ضمن میں   اس کی ساری کوششیں اکارت جاتی تھیں۔ روزانہ روزانہ کی ڈانٹ اور بے عزتی سے بھر پور جملے سن کرا ب وہ کسی حد تک ڈھیٹ ہو چکا تھا۔ اب اس پر استادوں کی ڈانٹ اور غصّہ ، بلکہ مار بھی کچھ خاص اثر نہیں کرتی تھی۔