اتحاد و اتفاق
(7 دسمبر 2025ء بروز اتوار کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے نیچے دی گئی لنک پر کلک کریں.) چلیں ، آج کی تحریر میں دو عالموں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان دو عالموں کے مابین جو بات چیت ہوئی، اس سے ہم سب کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ان میں سے ایک عالم مفتی شفیع ؒ ہیں اور دوسرے مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ ہیں۔ یہ دونوں دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں اپنے زمانے کے بڑے علماء میں سے تھے۔ مفتی شفیعؒ موجودہ دور کے معروف عالم ِ دین مفتی تقی عثمانی صاحب کے والد محترم تھے۔ مفت ی شفیعؒ فرماتے ہیں کہ قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھا اور سیّدی حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے، ایک سال اسی جلسہ پر تشریف لائے، میں بھی اپ کے ساتھ تھا ۔ ایک صبح نمازِ فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا ۔ حضرت کیسا مزاج ہے ؟ کہاں ہاں! ٹھیک ہی ہے میاں ، مزاج کیا پوچھتے ہو، عمرضائع کر دی۔ ...