اشاعتیں

اسلامی لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

نیک کردار کافر

تصویر
 (نوٹ: 4 جنوری 2026ء بروز اتوار کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس مضمون کے آخر میں موجود لنک کو وزٹ کریں۔) حضرت ام ِّ سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا امہات المومنین میں سے ہیں۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا ابتدائی مسلمانوں میں سے ہیں۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کا اصل نام ہند بنت امیہ تھا۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے اپنے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے   ساتھ   حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی تھی۔ یعنی آپ ان عظیم شخصیات میں سے ہیں، جنھیں   مدینہ منورہ کے ساتھ ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے شوہر کا اصل نام عبد اللہ بن عبد الاسد تھا۔ وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پھوپھی برۃ بنت عبد المطلب کے بیٹے تھے۔ عبد اللّٰہ بن عبد الاسد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نہ صرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے، بلکہ رضاعی بھائی بھی تھے۔   یہ بھی پڑھیے: سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ اور حجاج بن یوسف کے درمیان ہونے والا تاریخی مکالمہ حضرت ام سلمہ   رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی ہجرت مدینہ کا واقعہ بڑا درد انگیز ہے۔ جب آ...

سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ اور حجاج بن یوسف کے درمیان ہونے والا تاریخی مکالمہ

تصویر
(18 جنوری 2026ء بروز اتوار کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں دی گئی لنک پر کلک کریں) سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ مشہور و معروف تابعی ہیں۔ آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے کھل کر حکومت وقت کی مخالفت کی۔ یہ بات حکومتی کارندوں کو پسند نہ آئی۔ انھیں اموی حکومت کے مشہور ظالم گورنر حجاج بن یوسف نے شہید کروایا۔ یہ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کا دور حکومت تھا۔  شہادت سے قبل سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ اور حجاج بن یوسف کے مابین ایک تاریخی مکالمہ ہوا۔ یہ مکالمہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوا۔ یہ مکالمہ حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ کی بے خوفی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مکالمہ بتاتا ہے کہ اللّٰہ کے نیک بندے صرف اللّٰہ سے ڈرتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ظالم بادشاہوں اور اس کے کارندوں کا خوف نہیں ہوتا۔ اس مکالمے سے حضرت سعید بن جبیر کی حاضر جوابی کا بھی بہت خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آئیے، تاریخ کا یہ ان مول مکالمہ پرھتے ہیں۔  یہ بھی پڑھیے: رویہ حجاج: تیر انام کیا ہے؟ سعید: میر انام سعید ہے۔ حجاج: کس کا بیٹا ہے ؟  سعید : جبیر کا بیٹا ہوں (سعید کا ترجمہ نیک بخت ہے اور جبیر کے معنی ...

پہلے تربیت، پھر تعلیم

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق سورۃ آل ِ عمران میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: "بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ انھیں میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، جو انھیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہےاور انھیں پاک کرتا ہےاور انھیں کتاب و حکمت سکھا تا ہے، یقیناً یہ سب اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔" (3:164)  

قرآن و حدیث کی روشنی میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق خلیفہ ِ اوّل، جانشینِ پیغمبر اعظم ﷺ، یار ِ غار،صاحب ِ مزار،    تاج دار ِ امامت، حضرت سیّدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ   تاریخ ِ اسلام کی وہ عظیم ترین شخصیت ہیں، جنھیں   ان کی لازوال قربانیوں اور رسول ِ کریم ﷺ سے بے مثل دوستی   کی وجہ سے تا قیامت یاد رکھا جائے گا۔قبول ِ اسلام کے بعد انھوں نے سب کچھ محبت ِ رسول ﷺ   میں لٹا دیا۔ پھر رسول کریم ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد آپ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس طرح غم زدہ اُمّت کو سہارا دیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔اس میں شک نہیں کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آں حضرت ﷺ کی نیابت کا حق ادا کردیا۔پوری امت ِ مسلمہ ان کے احسانات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ بے   شک آپ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ دنیا کے عظیم ترین اور کام یاب ترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ گووہ رسول کریم ﷺ کے   دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد محض ڈھائی سال تک حیات رہے، لیکن ان کا یہ دور ِ خلافت سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ شاعر ِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب کہا:

سورۃ الحجرات کے Dos اور Don’ts

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 11 (آخری قسط) 12۔ انصاف کرو سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 9 میں ربّ العالمین کا ارشاد ہے: "اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کر ادیا کرو۔ پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرےتو تم (سب) اس گروہ سے، جو زیادتی کرتا ہے، لڑو۔ یہاں تک وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ اگر لوٹ آئے تو پھر انصاف کے ساتھ صلح کرا دواور عدل کرو۔ بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ "(49:9)   اس آیت مبارکہ میں حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کے دو فریق لڑ پڑیں تو باقی مسلمانوں کو غیر جانب دار نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان کے درمیان   صلح صفائی کی خدمات سر انجام دینی چاہئیں۔ انصاف کی خاطرظالم گروہ سے   لڑنے تک کی نوبت آجائے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "اپنے بھائی کی مدد کرو ، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔" ایک صحابی نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! جب وہ مظلوم ہو تو میں اس کی مدد کروں گا، لیکن آپ کا کیا خیال ہے، جب وہ ظالم ہوگا ، پھر میں اس کی مدد کیسے کروں؟"نبی کریم ﷺ نے ا...

سورۃ الحجرات کے Dos اور Don’ts

تصویر
قسط نمبر 9 10۔ تجسس نہ کرو سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 12 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اور تجسس نہ کرو۔" (49:12)   تجسس کا مفہوم اور اسلام میں اس کی ممانعت تجسس "جستجو، کھوج، تحقیق، تلاش، کرید " کو کہتے ہیں۔ (اردو لغت ڈاٹ انفو) کسی کی خفیہ باتیں تلاش کرنا تجسس کہلاتا ہے۔ کچھ مفسرین و مترجمین نے 'لا تجسسو' کا ترجمہ 'ٹوہ نہ لگاؤ' بھی کیا ہے۔ تجسس یا ٹوہ لگانا ایک ہی شے ہے۔ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو عیب تلاش کرنا، چھپ کر کسی کی باتیں سننا، کسی کا پیچھا کرنا، تاک جھانک کرنا، کسی کے نجی خط پڑھنا، کسی اچھی کتاب سے اختلافی بات نکالنا، کسی کے میسجز پڑھنا ، کسی کے ذاتی معاملات جاننے میں دلچسپی لینا، جن باتوں کوستّار رب نے چھپا رکھا ہے، انھیں جاننے کی کوشش کرنا۔۔۔یہ سب کچھ تجسس   کے ذمرے میں آتا ہے۔ اس طر ح کی اوچھی حرکتیں کسی شریف النفس شخص سے تو سرزد نہیں ہو سکتیں ۔سو اسلام میں اس کی ممانعت ہے۔  

سورۃ الحجرات کے Dos اور Don’ts

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 8 9۔ بد گمانی سے بچو سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 12 میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے: "اے ایمان والو! بہت بد گمانیوں سے بچو ۔ یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں۔"(49:12) پچھلی آیت ِ مبارکہ سے ربط پچھلی آیت مبارکہ میں جن تین کاموں سے منع کیا گیا تھا، وہ ہم اپنے بھائی کے سامنے اس کی موجودگی میں سر انجام دیتے ہیں۔وہ تین کام تھے: مذاق اڑانا، عیب جوئی کرنا اور نام بگاڑنا۔   اس آیت ِ مبارکہ میں بھی تین کاموں سے منع کیا گیا، مگر پچھلی آیت ِ مبارکہ کے برعکس اس میں جن تین کاموں سے منع کیا گیا ہے، وہ ہم اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں سرانجام دیتے ہیں یا اسے بسا اوقات معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی عزت پر حملہ کیا جا رہا ہے۔ان میں سے پہلا کام بد گمانی ہے۔ یعنی پچھلی آیت ِ مبارکہ میں حکم دیا گیا کہ   کسی مسلمان کے شایان ِ شاں نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کے سامنے اس کی موجودگی میں اس کی عزت پر حملہ آور ہو۔اس آیت مبارکہ میں ہدایت دی گئی کہ یہ بھی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ چھپ کر کسی مسلمان کی عزت پر حملہ آور ہو۔ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی عزت کا محاف...

سورۃ الحجرات کے Dos اور Don’ts

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 7 8۔ بُرے نام نہ رکھو الحجرات کی آیت نمبر 11 میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے: "ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، کسی کے ایمان (لانے )کے بعد اسے فاسق و بد کردار کہنا بہت ہی برا نام ہے۔(49:11) مذاق اڑانے ، طعنے دینے اور عیب جوئی کی طرح یہ معاشرتی برائی بھی ہمارے اندر عام ہے۔ بلکہ اس کو تو برائی ہی نہیں سمجھا جاتا۔ جس کا جب جی چاہتا ہے، نام بگاڑدیتا ہے۔ اسلام انسانوں کی عزت کا ضامن ہے۔ سواسلام میں اس کی ممانعت ہے۔ مذاق اڑانے ، طعنے دینے اور عیب جوئی کی طرح یہ بھی وہ   برائی ہے، جو رشتہ ِ اخوت کو کم زور کرتی ہے۔اس لیے   اس سے احتراز از حد ضرور ی ہے۔کسی کو برے القاب سے وہی پکار سکتا ہے، جس کی تربیت صحیح نہج پر نہ ہوئی ہو۔ مہذب شخص کا یہ شیوہ نہیں کہ   وہ ہرکسی کا نام بگاڑتا پھرے۔نام بگاڑنا بد تہذیبی ہے۔

سورۃ الحجرات کے Dos اور Don’ts

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 6 7۔ عیب جوئی نہ کرو/طعنے نہ دیا کرو سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 11 میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے: "اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ۔"(49:11)   لفظ "لمز" کی تحقیق: درج بالا جملے کی تشریح کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ لفظ "لمز" کی صراحت کی جائے۔ کیوں کہ بعض مترجمین   و مفسرین نے اس کا ترجمہ "طعنہ دینا" کیا ہے اور بعض نے "عیب جوئی اور عیب چینی کرنا" کیا ہے۔ درج بالا ترجمہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کی   تفسیر ِ مظہری سے لیا گیا ہے۔ لیکن مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے : "آپس میں طعنہ نہ کرو۔"( کنز الایمان) مولانا محمد جونا گڑھی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے: "آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ۔(احسن البیان) مفتی   محمدتقی عثمانی صاحب نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے: "تم ایک دوسرے کو طعنے نہ دیا کرو۔" (آسان ترجمہ   قرآن) اصل میں یہاں "لمز" استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے، "زبان سے طعن کرنایعنی کس...

سورۃ الحجرات کے Dos اور Don’ts

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر5 6۔ ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑاؤ الحجرات کی آیت نمبر 11 میں فرمان ِ باری تعالیٰ ہے: "اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ۔ممکن ہےکہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ۔ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں۔(49:11)   سابقہ آیت میں بتایا گیا کہ مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں، سو بھائیوں کے مابین لڑائی جھگڑا ہو جائےتو صلح کر ادیا کرو۔ اس آیت ِ مبارکہ سے رشتہ ِ اخوت کو مضبوط   سے مضبوط تر بنادینے والے عناصر سے متعلق الہامی ہدایات فراہم کی جا رہی ہیں۔معاشرے کو پر سکون بنانے کے لیے ان الہامی ہدایات پر عمل کرنا از حد ضروری ہے۔    

سورۃ الحجرات کے Dos اور Don’ts

تصویر
تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 4 4 ۔ خبر کی تحقیق کر لیا کرو الحجرات کی آیت نمبر 6 میں ربِّ کریم فرماتے ہیں: "اے ایمان والو! اگر تمھیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔"(49:6) اس آیت ِ مبارکہ میں میڈیا کا نہایت اہم اصول بتایا گیا ہے۔ موجودہ دور میں اس الہامی حکم پر عمل کرنے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جب سے سماجی میڈیا معرض ِ وجود میں آیا ہے، جھوٹ بولنا نہایت آسان ہو گیا ہے، بلکہ یہاں اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ اللہ کی پناہ! آئے روز سماجی   میڈیا پر ایسی خبریں پڑھنے اور دیکھنے کو ملتی ہیں، جو جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور ہم بغیر تحقیق کیے اس کو آگے شئیر اور فارورڈ کر دیتے ہیں۔ بعد میں جب معلوم ہوتا ہے کہ اس خبر کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں تھا تو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بسا اوقات نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ اس لیے کسی بھی خبر کی تشہیر کرنے سے پہلے اس کی تحقیق لازمی کرنی چاہیے، تاکہ بعد میں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہر سنی سنائی بات پر یقین نہیں کر لینا چاہیے۔

سورۃ الحجرات کے Dos اور Don’ts

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 3 3۔ اپنی آوازپست رکھو سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے: "اے ایمان والو!اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کیا کرواور نہ ان سے اونچی آواز سے بات کرو، جیسے آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں (ایسا نہ ہو) کہ تمھارے اعمال اکارت جائیں اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔"(49:2) یہ حکم اگر چہ زمانہ ِ نبوت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیا گیا، مگرقرآن ِ حکیم کی تعلیمات تاقیامت ہیں۔ اس آیت میں یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ جس طرح رسول ِ اکرم ﷺ کی حیات ِ طیبہ میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ادب و احترام کو تقاضوں کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہوئے آپ ﷺ کے سامنے اپنی آواز پست رکھتے تھے، اسی طرح آج بھی رسول اللہ ﷺ کا ادب و احترام ضروری ہے۔الحمد للہ، امّت ِ   محمدیہ   نے رسول اللہ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد بھی آپ ﷺ کے ادب و احترام کا سلسلہ جاری و ساری رکھا ہوا ہے۔ آج بھی روضہ ِ رسول ﷺ کے سامنے نہایت ادب و احترام کے ساتھ اور اپنی آواز پست رکھ کر سرکار علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود و سلام بھیجا جاتا ہے۔

سورۃ الحجرات کے Dos اور Don’ts

تصویر
تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 2 2۔ اللہ سے ڈرو سورۃ الحجرات کی آیت نمبر 1 میں   ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:   "اور اللہ سے ڈرو۔یقیناً اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے۔"(49:2) "اللہ سے ڈرو" بہ ظاہر ایک چھوٹا سا جملہ ہے، لیکن اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کا ڈر پیدا کر دیں تو نہ صرف ہمیں دنیوی کام یابی حاصل ہوسکتی ہے، بلکہ آخرت بھی سنور سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ڈر کو اسلامی اصطلاح میں "تقویٰ ” کہا جاتا ہے۔ گویا درج بالا الہامی حکم کے ذریعے نصیحت کی جا رہی ہےکہ اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ آسمان و زمین کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی ہے۔ انسان تو ایک مخصوص مدت کے لیے زمین پر آیا ہے۔ اس کے بعد چلا جائے گا۔اس لیے بہتری اسی میں ہے کہ تقویٰ اختیار کرتے ہوئے الہامی ہدایات پر عمل کیا جائے۔