سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ اور حجاج بن یوسف کے درمیان ہونے والا تاریخی مکالمہ
(18 جنوری 2026ء بروز اتوار کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں دی گئی لنک پر کلک کریں)
سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ مشہور و معروف تابعی ہیں۔ آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے کھل کر حکومت وقت کی مخالفت کی۔ یہ بات حکومتی کارندوں کو پسند نہ آئی۔ انھیں اموی حکومت کے مشہور ظالم گورنر حجاج بن یوسف نے شہید کروایا۔ یہ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کا دور حکومت تھا۔
شہادت سے قبل سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ اور حجاج بن یوسف کے مابین ایک تاریخی مکالمہ ہوا۔ یہ مکالمہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوا۔ یہ مکالمہ حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ کی بے خوفی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مکالمہ بتاتا ہے کہ اللّٰہ کے نیک بندے صرف اللّٰہ سے ڈرتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ظالم بادشاہوں اور اس کے کارندوں کا خوف نہیں ہوتا۔ اس مکالمے سے حضرت سعید بن جبیر کی حاضر جوابی کا بھی بہت خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
آئیے، تاریخ کا یہ ان مول مکالمہ پرھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: رویہ
حجاج: تیر انام کیا ہے؟
سعید: میر انام سعید ہے۔
حجاج: کس کا بیٹا ہے ؟
سعید : جبیر کا بیٹا ہوں (سعید کا ترجمہ نیک بخت ہے اور جبیر کے معنی اصلاح کی ہوئی چیز)۔
حجاج: نہیں تو شقی بن کسیر ہے۔ (شقی کہتے ہیں بدبخت کو اور کسیر ٹوٹی ہوئی چیز )
سعید : میری والدہ میر انام تجھ سے بہتر جانتی تھیں۔
حجاج: تو بھی بدبخت اور تیری ماں بھی بد بخت۔
سعید : غیب کا جاننے والا تیرے علاوہ اور ہے۔ (یعنی علام الغیوب) حجاج: دیکھ میں اب تجھے موت کے گھاٹ اتارتا ہوں۔
سعید : تو میری ماں نے میرا نام درست رکھا۔
حجاج : دیکھ، اب میں تجھ کو زندگی کے بدلے کیسے جہنم رسید کرتا ہوں۔
سعید : اگر میں جانتا کہ یہ تیرے اختیار میں ہے تو تجھ کو معبود بنا لیتا۔
حجاج: حضور اقدس صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نسبت تیرا کیا عقیدہ ہے؟
سعید : وہ رحمت کے نبی تھے اور اللہ کے رسول تھے جو بہترین نصیحت کے ساتھ تمام دنیا کی طرف بھیجے گئے۔
حجاج: خلفاء کی نسبت تیرا کیا خیال ہے؟
سعید : میں ان کا محافظ نہیں ہوں۔ ہر شخص اپنے کیے کا ذمہ دار ہے۔
حجاج: میں ان کو برا کہتا ہوں یا اچھا؟
سعید : جس چیز کا مجھے علم نہیں میں اس میں کیا کہہ سکتا ہوں، مجھے اپنا ہی حال معلوم ہے۔
حجاج: ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ تیرے نزدیک کون ہے؟
سعید : جو سب سے زیادہ میرے مالک کو راضی کرنے والا تھا۔ بعض کتب میں بجائے اس کے یہ جواب ہے کہ ان کے حالات بعض کو بعض پر ترجیح دیتے ہیں۔
حجاج: سب سے زیادہ راضی رکھنے والا کون تھا ؟
سعید : اس کو وہی جانتا ہے، جو دلوں کے بھیدوں اور چھپے ہوئے رازوں سے واقف ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آرٹس گروپ کی کتابوں کا فقدان
حجاج: حضرت علی رضہ اللہ تعالیٰ عنہ جنت میں ہیں یا دوزخ میں؟
سعید: اگر میں جنت اور جہنم میں جاؤں اور وہاں والوں کو دیکھ لوں تو بتا سکتا ہوں۔
حجاج: میں قیامت میں کیسا آدمی ہوں گا؟
سعید: میں اس سے کم ہوں کہ غیب پر مطلع کیا جاؤں۔
حجاج: تو مجھ سے سچ بولنے کا ارادہ نہیں کرتا۔
سعید: میں نے جھوٹ بھی نہیں کہا۔
حجاج: تو کبھی ہنستا کیوں نہیں؟
سعید: کوئی بات ہنسنے کی دیکھتا نہیں اور وہ شخص کیا ہنسے جو مٹی سے بنا ہو اور قیامت میں اس کو جانا ہو اور دنیا کے فتنوں میں دن رات رہتا ہو۔
حجاج: میں تو ہنستا ہوں۔
سعید: اللہ نے ایسے ہی مختلف طریقوں میں ہم کو بنایا ہے۔
حجاج: میں تجھے قتل کرنے والا ہوں۔
سعید: میری موت کا سبب پیدا کرنے والا اپنے کام سے فارغ ہو چکا۔
حجاج: میں قیامت میں کیسا آدمی ہوں گا؟
سعید: میں اس سے کم ہوں کہ غیب پر مطلع کیا جاؤں۔
حجاج: تو مجھ سے سچ بولنے کا ارادہ نہیں کرتا۔
سعید: میں نے جھوٹ بھی نہیں کہا۔
حجاج: تو کبھی ہنستا کیوں نہیں؟
سعید: کوئی بات ہنسنے کی دیکھتا نہیں اور وہ شخص کیا ہنسے جو مٹی سے بنا ہو اور قیامت میں اس کو جانا ہو اور دنیا کے فتنوں میں دن رات رہتا ہو۔
حجاج: میں تو ہنستا ہوں۔
سعید: اللہ نے ایسے ہی مختلف طریقوں میں ہم کو بنایا ہے۔
حجاج: میں تجھے قتل کرنے والا ہوں۔
سعید: میری موت کا سبب پیدا کرنے والا اپنے کام سے فارغ ہو چکا۔
حجاج: میں اللہ کے نزدیک تجھ سے زیادہ محبوب ہوں۔
سعید: اللہ پر کوئی بھی جرات نہیں کر سکتا جب تک کہ اپنا مرتبہ معلوم نہ کرلے اور غیب کی اللہ ہی کو خبر ہے۔
حجاج: میں کیوں جرات نہیں کر سکتا، حالانکہ میں جماعت کے بادشاہ کے ساتھ ہوں اور تو باغیوں کی جماعت کے ساتھ ہے۔
سعید: میں جماعت سے علیحدہ نہیں ہوں اور فتنہ کو خود ہی پسند نہیں کرتا اور جو تقدیر میں ہے اس کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔
حجاج: ہم جو کچھ امیر المؤمنین کے لیے جمع کرتے ہیں، اس کو تو کیسا سمجھتا ہے؟
سعید: میں نہیں جانتا کہ کیا جمع کیا۔
حجاج نے سونا، چاندی، کپڑے وغیرہ منگا کر ان کے سامنے رکھ دیے۔
یہ بھی پڑھیے: نعیمیات
سعید: یہ اچھی چیزیں ہیں، اگر اپنی شرط کے مطابق ہوں۔
حجاج: شرط کیا ہے؟
سعید: یہ کہ تو ان سے ایسی چیز خریدے جو بڑے گھبراہٹ کے دن یعنی قیامت کے دن امن پیدا کرنے والی ہو، ورنہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے کو بھول جائے گی اور حمل گر جائیں گے اور آدمی کو اچھی چیز کے سوا کچھ کام بھی نہ دے گی۔
حجاج: ہم نے جو جمع کیا، یہ اچھی چیز نہیں؟
سعید: تو نے جمع کیا، تو ہی اس کی اچھائی کو سمجھ سکتا ہے۔
حجاج: کیا تو اس میں سے کوئی چیز اپنے لیے پسند کرتا ہے؟
سعید: میں صرف اس چیز کو پسند کرتا ہوں جس کو اللہ پسند کرے۔
حجاج: تیرے لیے ہلاکت ہو۔
سعید: ہلاکت اس شخص کے لیے ہے جس کو جنت سے ہٹا کر جہنم میں داخل کر دیا جائے۔
حجاج: (دق ہو کر) بتا کہ میں تجھے کس طریقے سے قتل کروں؟
سعید: جس طریقے سے قتل ہونا اپنے لیے پسند ہو۔
حجاج: کیا تجھے معاف کر دوں؟
سعید: معافی اللہ کے یہاں کی معافی ہے، تیرا معاف کرنا کوئی چیز بھی نہیں۔
حجاج نے جلاد کو حکم دیا کہ اس کو قتل کر دو۔
سعید باہر لائے گئے اور ہنسے۔ حجاج کو اس کی اطلاع دی گئی، پھر بلایا اور پوچھا۔
حجاج: تو کیوں ہنسا؟
سعید: تیری اللہ پر جرأت اور اللہ تعالیٰ کے تجھ پر حلم سے۔
حجاج: میں اس کو قتل کرتا ہوں جس نے مسلمانوں کی جماعت میں تفریق کی۔
پھر جلاد سے خطاب کر کے کہا کہ اس کی گردن اڑا دو۔
سعید: میں دو رکعت نماز پڑھ لوں، پھر قبلہ رخ ہو کر ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَواتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ (الانعام: ۷۹) پڑھا،
یعنی میں نے اپنا منہ اس پاک ذات کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنائے اور میں سب طرف سے ہٹ کر ادھر متوجہ ہوا اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔
حجاج: اس کا منہ قبلہ سے پھیر دو اور نصاریٰ کے قبلہ کی طرف کر دو کہ انہوں نے بھی اپنے دین میں تفریق کی اور اختلاف پیدا کیا، چنانچہ فوراً پھیر دیا گیا۔
سعید: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ (البقرة: ۱۱۵) - جدھر تم منہ پھیرو ادھر بھی خدا ہے جو بھیدوں کا جاننے والا ہے۔
حجاج: اوندھا ڈال دو (یعنی زمین کی طرف منہ کر دو) ہم تو ظاہر پر عمل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
سعید: ﴿مِنْهَا خَلَقْنَكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى﴾ (طه: ۵۵)۔
ہم نے زمین ہی سے تم کو پیدا کیا اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے اور اسی سے پھر دوبارہ اٹھائیں گے۔
حجاج: اس کو قتل کر دو۔
سعید: میں تجھے اس بات کا گواہ بناتا ہوں۔
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
تو اس کو محفوظ رکھنا۔ جب میں تجھ سے قیامت کے دن ملوں گا تو لے لوں گا۔
اس کے بعد وہ شہید کر دیے گئے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ان کے انتقال کے بعد بدن سے خون بہت زیادہ نکلا، جس سے حجاج کو بھی حیرت ہوئی۔
اپنے طبیب سے اس کی وجہ پوچھی، اس نے کہا کہ ان کا دل نہایت مطمئن تھا اور قتل کا ذرا بھی خوف ان کے دل میں نہیں تھا، اس لئے خون اپنی اصلی مقدار پر قائم رہا، بخلاف اور لوگوں کے کہ خود سے ان کا خون پہلے ہی خشک ہو جاتا ہے۔
(اس مضمون کی تیاری میں مولانا زکریا رحمۃ اللّٰہ علیہ کی کتاب "فضائلِ اعمال" سے استفادہ کیا گیا ہے.)
18 جنوری 2026ء کی اہم نوکریوں کی پی ڈی ایف نیچے دی گئی لنک پر ہیں.


تبصرے