دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 2)
تحریر: نعیم الرّحمان
شائق
قسط نمبر2
(21 دسمبر 2025ء بروز اتوار کی نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں موجود لنک پر کلک کریں۔)
(اس تحریر کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں، قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں, قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں اور آخری قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ )
عزیر بلوچ گینگ وار میں کیسے آئے؟
عزیر بلوچ کو ان کے والد کے قتل سے پہلے زیادہ لوگ نہیں
جانتے تھے۔ ان کے والد کا نام فیض بلوچ تھا۔ فیض بلوچ ٹرانسپورٹرتھے۔ ان کی بہت سے بسیں
تھیں، جو کراچی سے دیگر علاقوں میں جاتی تھیں۔ان کی بسوں کا اسٹاپ لیمارکیٹ میں
تھا۔ ان کی بسوں کے پیچھے'الفیض' لکھا ہوتا تھا۔ فیض بلوچ کو حاجی لال محمد عرف حاجی لالو کے
بیٹے ارشد عرف پپو نے بے دردی سے قتل کر
دیا۔اہل ِ علاقہ کہتے ہیں کہ حاجی فیض اپنے گھر کے باہر دوستوں کے ساتھ بیٹھے
باتیں کررہے تھے۔ اتنے میں ایک گاڑی رکی، کچھ لوگ گاڑی سے نکلے اور فیض بلوچ کو
اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ فیض صاحب جانے لگے تو یاروں دوستوں نے انھیں منع کیا
کہ نہ جائیں ۔ انھوں نے کہا، ”یہ اپنے بچے ہیں۔ کچھ نہیں ہوگا۔“ ان 'اپنے بچوں' نے
انھیں بے دردی سے قتل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ ارشد عرف پپو نے ان کے گلی میں رسی
باندھی ۔ پھر اس رسی کو گاڑی کے پیچھے باندھ دیا۔ اس طرح گھسٹتے گھسٹتے ان کی موت
واقع ہوگئی۔ واللہ اعلم! عزیر بلوچ اپنے والد کے قتل کے بعد گینگ وار میں آگئے۔ ان
کا مقصد اپنے والد کا قتل کا بدلہ لینا تھا۔ آخر کار انھوں نے2013ء میں ارشد عرف پپو کو بے دردی سے قتل کرکے یا قتل کروا کر بدلہ لے ہی
لیا۔ گویا جس مشن کے لیے انھوں نے گینگ وار کو جوائن کیا تھا، اس مشن کو پایۂ
تکمیل تک پہنچا دیا۔ عزیر بلوچ نے گرفتاری کے دوران اعتراف کیا کہ انھوں نے پولیس
افسر ان کی مدد سے ارشد پپو، اس کے بھائی اور اس کے ایک ساتھی کو اغوا کیا ۔ پھر ان تینوں کے سر تن سے جدا کر
کے لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کھیلا اور لاشوں کو جلا دیا۔اس کے بعد دہشت پھیلانے
کے لیے لاشوں کی وڈیو بنا کر پورے ملک میں پھیلا دی۔ گویا جو حال فیض بلوچ کے ساتھ
کیا گیا، اس سے برا حال ارشد بلوچ کے ساتھ ہوا۔
لیاری میں گینگ وار کے
دو مخالف گروہ:
ان دنوں لیار ی میں
گینگ وار کے دو مخالف گروہ تھے۔ ایک گروہ عبد الرحمان بلوچ کا تھا۔ عبد الرحمان
کلاکوٹ میں رہتےتھے۔ دوسرا گروہ حاجی لالو کا تھا۔ حاجی لالو جہان آباد میں رہتے
تھے۔ ارشد بلوچ عرف پپو حاجی لالو کے فرزند تھے۔یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے سخت مخالف تھے۔ایک دوسرے کے
حامیوں اورر شتہ داروں کو قتل کر دیا کرتے تھے۔میں نے عبد الرّحمان کی ایک وڈیو
دیکھی، جس میں وہ اعتراف کررہے ہیں کہ انھوں نے ارشد پپو کی بیوی کے سگے ماموں
انور بلوچ کو بھی قتل کیا ، کیوں کہ وہ انھیں تنگ کرتے تھے۔ انور بلوچ کو لیاری والے انور بھائی جا ن کہتے ہیں۔ مجھے
اب بھی یاد ہے کہ ان کی خبر'امت' اخبار میں پہلے
صفحے پر شائع ہوئی تھی۔ 'امت' اخبار کا نام اس لیے لیا کہ یہ میرے والد ِ
محترم کاپسندیدہ اخبار ہے۔ ہمارے گھر میں یہ اخبار آتا تھا۔ ابو نے ہمیں یہ خبر
پڑھ کر سنائی۔ شاید یہ 2005ء کی بات ہے۔ انور بھائی جان 'بلوچ اتحاد تحریک' کے
بانی تھے۔ گو اب بھی لیاری میں بلوچ اتحاد تحریک کا دفتر موجود ہے۔ دفتر کے باہر
جلی حروف میں تحریک کا نام لکھا ہوا ہے، لیکن انور بلوچ کے قتل کے بعد اس تحریک
میں وہ دم نہ رہا۔ بعد کے لوگ اس تحریک کو اس طرح نہ چلا سکے، جس طرح
انور بھائی جان چلایا کرتے تھے۔
لیاری میں موجود دو مخالف گینگ وار گروہوں کے مابین آئے روز قتل و
غارت گری کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ارشد
بلوچ نے عزیر بلوچ کے والد کوتاوان نہ دینے کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ فیض
بلوچ ، عبد الرحمان بلوچ کے رشتے دار تھے۔ اُن دنوں لیاری میں بڑے بڑے سیٹھوں سے بھتا لیا
جاتا تھا۔ اس کے علاوہ اغوا برائے تاوان بھی کیا جاتا تھا۔ منشیات کا دھندا بھی
چلتا رہتا تھا۔
عزیر بلوچ کیسے
شخص تھے؟
والد کے قتل سے پہلے عزیر بلوچ اتنے مشہور نہیں تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق وہ شروع میں لیاری جنرل ہسپتال میں وارڈ بوائے تھے۔ ان کے والد انھیں کراچی پورٹ ٹرسٹ(کے پی ٹی) میں ملازمت دلوانا چاہتے تھے۔ہم نے یہ بھی سنا ہے کہ زمانۂ طالب علمی میں وہ بہت ذہین سمجھے جاتا تھے۔ امتحانات میں اچھے نمبروں سے پاس ہوتے تھے۔ لیاری میں ہم بھی سنگولین میں رہتےتھے اور عزیر بلوچ کا گھر بھی سنگولین میں تھا۔ اس لیے کبھی کبھارہمیں بھی 'زیارت' ہوجاتی تھی۔ عزیر بلوچ ہروقت سفید لباس پہنتے تھے اور اکثر ان کے سر پر سندھی ٹوپی ہوتی تھی۔ عزیر بلوچ علما کی بہت عزت کرتے تھے۔ انھوں نے بہت سے قریبی لوگوں کو بھی سرکاری ملازمت پر لگایا۔ان کی کوشش ہوتی تھی کہ پیپلز امن کمیٹی کے ذریعے علاقے کی فلاح و بہبود کا کام کریں۔ سیاسی لوگوں کے ساتھ ان کی کافی میل جول تھی۔ وہ ایک بااثر سیاسی شخص بننا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی ان کا ساتھ دے گی۔ شایدہ وہ پیپلز پارٹی کا سہارا لیتے ہوئے کسی اعلیٰ عہدے پر پہنچ جائیں گے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ 2008ء سے 2013ء تک کے پی پی کے دور میں وہ لیاری کے سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے شخص تھے، مگر جیسے ہی مسلم لیگ کی حکومت آئی ، ان کا زوال آگیا۔ ان پر مقدمات تو بہت سارے تھے ، لیکن ان کا سب سے بڑا جرم ارشد عرف پپو کا بہیمانہ قتل تھا۔ آج کل وہ جیل میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: علم و حکمت
”سردار عزیر“
مجھے یاد ہے کہ ان دنوں لیاری میں مولانا طارق جمیل صاحب
آئے تھے۔ انھوں نے لیاری کی عثمان پارک میں بیان کیا تھا۔ عزیر بلوچ ان کے پاس
بیٹھے بیان سن رہے تھے۔ مولانا طارق جمیل صاحب بیان کے دوران کبھی کبھار عزیر بلوچ
کو 'سردار عزیر' کَہ کر نصیحت کرتے تھے۔ دوسرے
دن کچھ لوگوں کو میں نے دیکھا کہ مولانا صاحب کے بیان پر تبصرہ آرائی کر رہے تھے۔
ان لوگوں کا خیال تھا کہ مولانا طارق جمیل صاحب جیسی قد آور شخصیت کو عزیربلوچ
جیسے شخص کو 'سردار' نہیں کہنا چاہیے تھا۔ مولانا نے شاید اس لیے 'سردار ' کہا ہو کہ شاید جب وہ لیاری میں داخل ہوئے ہوں گے تو انھیں جا
بجا عزیر بلوچ کے بینرز اور پینا فلکسز وغیرہ نظر آئے ہوں گے۔ اور ان پر 'سردار
عزیر بلوچ' لکھا ہوا ہوگا۔ مولانا نے انھیں سردار سمجھا ہوگا۔ اس لیے انھوں نے یہ
لفظ استعمال کیا ہوگا۔
نوکریاں نیچے دی گئی لنک پر ہیں:
https://drive.google.com/file/d/163adFeksklPGDGnDCAvCghSy-rox1O8U/view?usp=drive_link

تبصرے