علم و حکمت
علم
وحکمت
(نوٹ: آج کی نوکریوں
کی پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں موجود لنک پر کلک کریں۔)
میں
ہوٹل میں بیٹھا اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا۔ سردی کا موسم
تھا۔ ہماری طرح اس نے بھی اپنے کانوں پر رومال لپیٹ رکھا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ
اپنا منھ بھی چھپا رکھا تھا۔ اس کی آنکھیں دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ نشئی ہے۔ وہ
ہمارے قریب بیٹھ گیا۔
تھوڑی
دیر بعد وہ گویا ہوا، ”بھگوت گیتا کے بارے
میں کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب ہے۔ “
میں
اس کی یہ بات سن کر حیران ہوگیا۔ اسے بھگوت گیتا کے بارے میں بھی معلوم تھا۔ مجھے
شک ہوا کہ کہیں یہ ہندو نہ ہو۔ میں نے اس سے نام پوچھا۔ اس کا نام مسلمانوں والا
تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اس چرسی کو بھگوت گیتا کے بارے میں کیسے معلوم ہے۔ میرے
ذہن میں مختلف سوالات گردش کرنے لگے۔ مثلاً یہ شخص کو بھگوت گیتا کے بارے میں کیوں
کر جانتا ہے؟ یہ تو چرسی ہے ۔کیا اس نے بھگوت گیتا پڑھی ہے؟ یہ نشئی ہوکر بھی ہندو مذہب کی مقدّس کتاب کےبار ے میں جانتا ہے؟ یہ
اور اس جیسے دیگر سوالوں نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔
میرا دل
چاہا کہ اپنی علمیت جھاڑو۔ دل میں خیال آیا کہ یہ چرسی ہے ۔ اس کےپاس مجھ سے کم
معلومات ہی ہوں گی۔ میں نے کہا، ” دیکھیں
، جناب! بھگوت گیتا ہندوؤں کی مقدس کتاب ہے۔ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔ “ اس کے
اگلے سوال نے میری علمیت جھاڑنے کا سارا مزہ کر کرا کر دیا۔ اس نے کہا، ” کمال ہے،
اللہ کا کلام نہیں ہے۔ پھر بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک بھگوت گیتا سے توحید و رسالت جیسے
عقائد اخذ کر لیتے ہیں۔“ اب میرے پاس اس کی بات کا جواب نہیں تھا۔ نتیجتاً چپ سادھ
لی۔ میرے پاس واقعی اس ضمن میں اتنی معلومات نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعید بن جبیر اور حجاج بن یوسف کا تاریخی مکالمہ
پھر اس
نے بائبل کے بارے میں سیر حاصل گفت گو کی ۔ میں اسے تکتا رہا ۔ اس کی باتیں غور سے
سنتا رہا۔ اس کی دلائل و علم سے بھر پور گفت گو سن کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ
علم پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہوتی۔ ضروری نہیں کہ صرف ایک عالم، فقیہ، ڈاکٹر، استاد،
فلسفی، مؤرخ، قانون دان ، سائنس دان کے پاس ہی علم ہو۔ علم نشئی کے پاس بھی ہو
سکتا ہے۔ علم مزدور کے پاس بھی ہوسکتا ہے۔ علم کے موتی ایک عام سا شخص بھی بکھیر
سکتا ہے۔ خدا علم، حکمت و دانائی سے کسی کو بھی عطا کر سکتا ہے۔
میرے
دوست نے مجھ سے پوچھا، ”سب سے افضل ذکر کون سا ہے؟“
میں نے
سوچ کر بتایا کہ ایک حدیث کے مطابق سب سے افضل ذکر استغفار ہے۔“
نشئی نے
کہا، ”سب سے افضل ذکرانسانوں کا دل نہ دکھانا ہے۔اپنے ارد گرد رہنے والے لوگوں کا
خیال رکھا کرو۔ انھیں پریشان مت کیا کرو۔ ان کو تکلیف نہ پہنچایا کرو۔ یہ سب سے
افضل ذکر ہے۔ “
چرسی نے
مجھے مزید حیرانی میں مبتلا کر دیا۔ گویا
و ہ علم کے ساتھ ساتھ حکمت سے بھی مالا مال تھا۔ کچھ دیر پہلے جس طرح اس نے علم کے
موتی بکھیرے تھے، اب حکمت کے شگوفے کھلا رہا تھا۔ اسے علم کے سا تھ ساتھ حکمت و
دانائی پر بھی دسترس حاصل تھا۔ وہ خوب
تھا۔ بہت خوب۔
علم و حکمت کا سچا اور اچھا طالب وہ ہوتا ہے، جو ہر ایک سے سیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس طرح وہ پڑھے لکھے سے سیکھتا ہے، اسی طرح ان پڑھ کی باتوں سے بھی علم و حکمت کے اسرار چننے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ علم و حکمت پر کسی کی اجارہ دار ی نہیں ہوتی۔ رب تعالیٰ کی مرضی ہے۔ وہ جسے چاہے ، یہ دولت عطا کر دے۔
نوکریاں دیکھنے کے لیے نیچے دی گئی لنک پر کلک کریں۔
https://drive.google.com/file/d/1s-EiHS_ZPRTzlkFUemR3MBQpeBxrPuNc/view?usp=drive_open

تبصرے