اشاعتیں

Featured post

اردو ادب/اردو اختیاری برائے جماعت نہم دہم (پنجاب بورڈ) کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کرلیں۔

تصویر
 یہ پنجاب بورڈ کی نویں اور دسویں جماعت کی اردو ادب کی کتاب ہے۔ اس مضمون کو اردو اختیاری بھی کہتے ہیں۔ اس مضمون کا پیپر بھی ہوتا ہے۔  حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کتاب کہیں سے بھی نہیں ملتی۔  اس کتاب کے حصول کے لیے میں نے کیا کیا جتن نہیں کیے۔ بک سٹالوں میں گیا، اساتذہ سے پوچھا، لاہور، فیصل آباد، ملتان وغیرہ کے بڑے بڑے پبلشرز سے رابطہ کیا،  بورڈ کے پیپرز بنانے والے اساتذہ سے بھی دریافت کیا، جب ہر جگہ سے امید ٹوٹ گئی تو پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں فون کیا،  کسی نے بھی میری مدد نہیں کی۔ بلآخر اپنی مدد آپ کرنی پڑی۔ ہمارے سندھی کے استاد سر گلزار مرحوم کہا کرتے تھے: کوشش سے خدا بھی مل جاتا ہے۔ سو اس کتاب کے حصول کے لیے بھر پور کوشش شروع کردی کوشش کیوں کی؟ اردو ادب سے دل چسپی رکھنے والے نویں، دسویں جماعت کے طلبہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے۔  اگر کسی بچے کو ادب کا شوق ہے تو وہ کتاب کی عدم فراہمی کی وجہ سے اپنا شوق قربان ہی نہ کردے۔  اگر اس مضمون کا پیپر ہوتا ہے تو کتاب بھی دست یاب ہونی چاہیے۔  ان وجوہات کی بنا پر کوشش کی۔ بلآخر میری کوشش رنگ لائی۔ مجھے یہ کت...

رُوحم (قسط نمبر 4)

تصویر
  سافٹ ویئر ہاؤس میں ایک مولوی صاحب بھی کام کرتے تھے۔ انھیں سب نام کی بجائے اکثر'مولوی صاحب'  اور کبھی کبھار 'مولانا صاحب'کَہ کر پکارتے تھے ۔ وہ بڑےسادہ،   ہنس مکھ اور خوش مزاج انسان تھے۔ ہروقت مسکراتے رہتے تھے۔ وجدان کی ان کے ساتھ بڑی بے تکلّفی تھی۔وجدان ، مولوی صاحب سے سینئر تھا۔ مولوی صاحب نے اس کے بعد کمپنی جوائن کی تھی۔ پہلے دن ہی   مولوی صاحب کی سادگی نے   وجدان کا دل موہ لیا۔ مولوی صاحب پہلے دن آئے تو انھوں نے وجدان سے کہا، ”بھائی ، مجھے نہیں معلوم کہ کمپنی والے کتنی تنخواہ دیتے ہیں۔ آپ اس کمپنی میں مجھ سے پہلے سے کام کرتے ہیں۔ میں کتنی تنخواہ کا   کہوں ؟“ وجدان کو مولوی صاحب کی معصومیت بڑی اچھی لگی۔ اس نے کہا، ”آپ جتنی تنخواہ چاہتے ہیں، اس سے دو ہزار زیادہ بول دیں۔ اس طرح آپ کو وہی تنخواہ مل جائے گی، جو آپ چاہتے ہیں۔“مولوی صاحب کو وجدان کو مشورہ انتہائی پسند آیا۔ باس نے انھیں آفس میں بلایا تو انھوں نے وجدان کے مشورے پر عمل کیا۔ وجدا ن نے جیسا کہا، ویسا ہی ہوا۔ اس طرح وجدان اور مولوی صاحب گہرے دوست بن گئے۔   مولوی صاحب کا کام اسلامی مواد کی ...

روحم (قسط نمبر3)

تصویر
  ”سر، میں آپ کا کب سے انتظار کر رہی ہوں۔ “ ”کیوں   ؟ خیریت تو ہے ناں!“وجدان نے حیرت سے پوچھا۔ ”جی، خیریت ہی ہے۔ دراصل پچھلےہفتے آپ نے جن چا ر کمپنیوں کی ویب سائٹوں پر کام کیا تھا ، ڈیمو سیشن کے لیے ان کے نمائندے آئے ہوئے ہیں۔ وہ آپ کو بلا رہے ہیں۔ “   ڈیمو سیشن کا آفس   چوتھے فلور پر تھا۔وجدان کا دل چاہ رہا تھا کہ جب تک چوتھا فلور نہیں آجاتا، وہ لڑکی سے باتیں کرتا رہے۔ اسے اس لڑکی سےمحو ِ گفتگو   ہونے سے پہلے ہی ایک ان جانی سے لذّت محسوس ہو رہی تھی۔ سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے وجدان آگے آگے تھا اور لڑکی اس کے پیچھے پیچھے۔ وجدان نے کہا، ” اچھا! تو یہ بات ہے۔” ”جی۔“ لڑکی نے مختصر سا جواب دیا۔ ”ان چاروں   کو ایک ہی وقت میں آنا تھا ؟ “ وجدان بولا۔ ”پتا نہیں   سر!“ لڑکی نے روکھا سا جواب دیا۔ وجدان کا دل چاہاکہ اور باتیں بھی کرے۔ اس نے کہا،”آپ ظفر صاحب سے کَہ دیتیں   ۔ بے چارےکب سے میرا انتظا ر کررہے ہیں۔“ ”جی، میں نے ظفر صاحب سے کہا تھا۔ انھوں نے کہا،”جس کا کام اسی کو ساجے۔“ لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”اچھا!! پتا نہیں ظفر صاحب کو محاو...

رُوحم (قسط نمبر 2)

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق یہ کَہ کر وجدان نے پھر سے لکھنا شروع کردیا۔ لڑکی وہیں کھڑی اپنی دوستوں سے باتیں کرتی رہی۔ لڑکیوں کی باتوں کی آوازیں وجدان تک پہنچ رہی تھیں۔ وجدان لکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی باتیں سننے کی کوشش بھی کر رہاتھا۔ اس کی آدھی توجّہ لکھنے کی طرف تھی تو آدھی توجّہ لڑکیوں کی بات کی طرف۔ جب انسان دو کام ایک ہی وقت میں     سر انجام دینے کی کوشش کرتا ہے تو اکثر دونوں کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔ یہی حال وجدان کا تھا۔ نہ وہ صحیح طریقے سے لکھ پا رہاتھا، نہ وہ لڑکیوں کی باتیں سن پا رہا تھا۔ اس لڑکی نے ایک بار پھر وجدان کو دیکھا۔ وجدان حسب ِ سابق صفحوں کے نیچے بغیر کچھ رکھے ابھی بھی لکھنے میں مصروف تھا۔لڑکی کو اچھا نہیں لگا۔ وہ   ایک بار پھر گویا ہوئی ، ”سر، آپ یہ فائل لے لیں۔ آپ کو لکھنے میں دشواری ہورہی ہے۔ مجھے فی الحال اس فائل کی ضرورت نہیں ہے۔“ واجدان نے پہلے کی طرح اس بار بھی صاف صاف منع کر دیا۔   یوں لگتا تھا، جیسے وجدان لڑکی کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس نے اپنی چیزیں مانگ کر اچھا نہیں کیا۔ جب اسے فائل کی ضرورت ہی نہیں تھی   ت...

رُوحم (قسط نمبر 1)

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق وجدان آفس میں   کچھ دیر پہلے پہنچا۔ ابھی اس کے کام کا وقت نہیں ہوا تھا ، اس لیے ایک خالی میز کے قریب کرسی پر بیٹھ گیا۔ اسے پڑھنے لکھنے کا بے حد شوق تھا۔ نوکری کے باوجود وہ پرائیویٹ پڑھ رہا تھا۔ وہ دفتر جاتا تو ساتھ نوٹس، کتابیں، خالی صفحےاور پین   وغیرہ بھی لے جاتا۔ اسے تھوڑا سا بھی وقت ملتا تو پڑھنا لکھنا شروع کر دیتا تھا۔ گو اسے پڑھنے کا شوق تھا، لیکن ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ اس کے کولیگز اسے پڑھا کو سمجھیں۔ جب وہ محسوس کرتا کہ اس کے کولیگز اسے دیکھ رہے ہیں تو پڑھائی لکھائی میں اس کا انہماک قدرے بڑھ جاتا۔عام انسانوں کی طرح اس میں بھی   کسی حد تک خود نمائی   تھی۔ انسان تھا۔ اور وہ بھی عام سا انسان۔ نہ کوئی فقیر، نہ کوئی بابا، نہ کوئی عالم ، نہ کوئی فقیہ ۔ہاں! فرشتے ہمہ اقسام کی خود نمائی   سے مبرّا ہوتے ہیں اوروہ فرشتہ نہیں تھا۔ دل میں خود نمائی اور اس قسم کے دیگر خیالات کا پیدا ہونا اس کے لیے فطری تھا۔   وجدان نے موبائل نکالا اور ٹائم دیکھا ۔ وہ وقت کا خاصا پابند تھا۔ اس کے پاس بیس منٹ تھے۔ حسب ِ معمول اس نے...

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 4)

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 4 (آخری قسط) (نوٹ: 11 جنوری 2026ء کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں دی گئی لنک پر کلک کریں۔) (اس تحریر کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں، قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں اور قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ ) اب لیاری کیسا ہے ؟ گو ماضی میں لیاری کے حالات انتہائی خراب تھے، لیکن اب لیاری، کراچی کے بہترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیاری کے حالات اب پہلے جیسے نہیں رہے۔ اب آپ کو لیاری میں جا بجا بڑی بڑی خوب صورت عمارتیں نظر آئیں گی۔ ماضی میں دیگر علاقوں کے لوگ لیاری میں آنے سے ڈرتے تھے۔ اب ایسا کچھ نہیں ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی مرکز بھی ہے۔ یہاں تقریباً ہر خطے کے لوگ بستے ہیں۔ کراچی میں آپ کو پٹھان، پنجابی، افغانی، بلوچ، سرائیکی، ہندکو، میاں والی، کشمیری، ہزارے وال، مہاجر۔۔۔یعنی ہر کمیونٹی کے لوگ ملیں گے۔ چوں کہ ڈیفنس، کلفٹن، گلشن اقبال وغیرہ مہنگے علاقے ہیں، اس لیے دیگر صوبوں اورعلاقوں    سے آنے والے لوگ لیاری میں رہنا پسند کرتے...

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 3)

تصویر
  (28 دسمبر 2025ء  کی نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کےآخر میں دی گئی لنک پر کلک کریں۔ ) تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 3 (اس تحریر کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں، قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں, قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں اور آخری قسط پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں۔ ) چودھری اسلم کا آپریشن فلم 'دھرندر' میں بھارت کے معروف ادا کار سنجے دت نےچودھری اسلم کا کردار ادا کیا ہے۔ میرے دوست منیر نے مجھے بتایا کہ چودھری اسلم کو سنجے دت پسند تھے۔ پچھلے دنوں ایک بھارتی یوٹیوبر کی وڈیو دیکھ رہا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ چودھری اسلم کہا کرتے تھے کہ میں کوئی ایسا کام کرجاؤں گا کہ میرے مرنے کے بعد مجھ پر فلمیں بنیں گی۔ جن دنوں چودھری اسلم نے عزیر بلوچ کے خلاف آپریشن کیا تھا، ان دنوں میں لیاری میں ہی رہتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ چودھری اسلم اور ان کی پوری ٹیم چیل چوک(لیاری )کے قریب کھڑی تھی۔ وہ لوگ وہاں سے خوب فائرنگ کررہے تھے۔ لیاری کے حالات انتہائی خراب ہوگئے تھے۔ جب چودھری اسلم کی ٹیم فائرنگ کرتی تو عزیر بلوچ کے ہا...