دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 4)
تحریر: نعیم الرّحمان
شائق
قسط نمبر4
(آخری قسط)
(نوٹ: 11 جنوری 2026ء کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں دی گئی لنک پر کلک کریں۔)
(اس تحریر کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں، قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں اور قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ )
اب لیاری کیسا ہے؟
گو ماضی میں لیاری کے حالات انتہائی خراب تھے، لیکن اب
لیاری، کراچی کے بہترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ لیاری کے حالات اب پہلے جیسے
نہیں رہے۔ اب آپ کو لیاری میں جا بجا بڑی بڑی خوب صورت عمارتیں نظر آئیں گی۔ ماضی
میں دیگر علاقوں کے لوگ لیاری میں آنے سے ڈرتے تھے۔ اب ایسا کچھ نہیں ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے
بڑا تجارتی مرکز بھی ہے۔ یہاں تقریباً ہر خطے کے لوگ بستے ہیں۔ کراچی میں آپ کو
پٹھان، پنجابی، افغانی، بلوچ، سرائیکی، ہندکو، میاں والی، کشمیری، ہزارے وال، مہاجر۔۔۔یعنی ہر کمیونٹی کے لوگ ملیں گے۔ چوں کہ ڈیفنس، کلفٹن، گلشن اقبال وغیرہ
مہنگے علاقے ہیں، اس لیے دیگر صوبوں اورعلاقوں
سے آنے والے لوگ لیاری میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ اگرچہ لیاری میں کثیر آبادی
بلوچوں کی ہے، لیکن جب آپ دودھ کی دکان میں جائیں گے تو پنجابی ملے گا، تندور پر
جائیں گے تو سرائیکی یا پٹھان ملے گا، برگر لینے جائیں گے تو ہزارے وال ملے گا،
نان لینے جائیں گے تو افغانی ملے گا۔قصہ ٔ مختصر یہ ہے کہ کسی زمانے میں بے اماں سمجھا جانے والا
یہ خطہ اب بڑا متنوع ہو گیا ہے۔ رونقیں بحال ہوگئیں ہیں ۔ دوسرے علاقوں کے لوگ بلا
جھجک نہ صرف یہاں آتے جاتے ہیں، بلکہ
رہائش بھی اختیار کرتے ہیں۔
لیاری میں بہت سے
معیاری مدرسے اور سکول ہیں۔ کچھ کالجز بھی ہیں ۔ بچے خوب تعلیم حاصل کر رہے
ہیں۔لیاری اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ لیاری
میں ایک بڑا ہسپتال بھی ہے، جہاں علاج کی اچھی سہولت ہے۔ لوگ دور دراز سے یہاں
علاج کروانے کے لیے آتے ہیں۔
بے نظیر بھٹو شہید یونی
ورسٹی لیاری
لیاری میں ایک بڑی
جامعہ بھی ہے۔ اس جامعہ کا نام بے نظیر بھٹو شہید یونی ورسٹی لیاری (یعنی بی بی ایس یو ایل ) ہے۔ میں اسے
لیاری یونی ورسٹی کہتا ہوں۔ یہ یونی ورسٹی
پاکستان پیپلز پارٹی کے 2008ء سے 2013ء کے دور میں بنی تھی۔ پی پی پی کے اس کارنامے کی جتنی تعریف کی جائے
، کم ہے۔ اس یونی ورسٹی سے پہلے لیاری کے طلبہ لیاری سے باہر پڑھنے کے لیے جاتے تھے۔ انھیں بہت
سی سفری دشواریاں پیش آتی تھیں۔ اس یونی ورسٹی کے قیام سے لیاری میں تعلیم پروان
چڑھی۔ اس یونی ورسٹی کی مناسب فیس کی وجہ سے نہ
صرف لیاری کے بچے یہاں پڑھتے ہیں، بلکہ دیگر علاقوں کے طلبہ بھی یہاں سے
تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ کچھ کالجزبھی اس جامعہ سے ملحق ہو گئے ہیں۔ اس یونی ورسٹی
کے قیام سے لیاری میں تعلیم خوب پروان
چڑھی۔ پیپلز پارٹی کے مذکورہ دور میں لیاری میں اور بھی بہت سے تعلیمی ادارے بنائے
گئے۔ ایک لا کالج بنایا گیا۔ ایک میڈیکل کالج بنایا گیا۔
لیاری کی عظیم شخصیات:
لیاری کا خطہ علم، شعور ،تعلیم ،فن اور
سیاست کے ضمن میں نہایت سر سبز و شاداب رہا۔ ماضی اور حال کی بہت سی عظیم شخصیات
کا تعلق لیاری سے تھا اور ہے۔ان عظیم شخصیات نے اپنے اپنے میدانوں میں کارہائے
نمایاں سرانجام دیے۔اب بھی لیاری با صلاحیت لوگوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ لوگ علاقے کے
لوگوں کی بھر پور طریقے سے خدمت کر رہے ہیں۔ جو لیاری میں نہیں رہتے ، وہ لیاری کی
خاک سے ملی قابلیتوں اور صلاحیتوں سے دیگر خطوں کے لوگوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
ماضی میں جھانکیں
تو جسٹس سجاد علی شاہ، پروفیسر علی محمد
شاہین، مولانا عبد اللہ میمن، مولانا خیر محمد ندوی، صالح محمد سرحدی، سر غلام نبی
قریشی، سر یار محمد، سر حسین بخش ہوت، مولانا محمد عمر، غازی عبد القیوم شہید،
نادر شاہ عادل، بانل دشت یاری، استاد جاڑک بلوچ ، قادر بخش بلوچ عرف قادو مکرانی کے علاوہ اور بھی بہت
سی بڑی اور مشہور شخصیات کا تعلق لیا ری سے تھا۔ ان شخصیات نے اپنے اپنے شعبوں میں
گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ دور ِ حاضر میں بھی لیاری میں ہمہ اقسام کے لوگ اپنے اپنے شعبوں میں بہترین کام کر رہے
ہیں۔ عظیم عالم ِدین اور روحانی بزرگ حضرت
مولانا محمد یوسف افشانی صاحب پیرانہ سالی کے باوجود خلق ِ خدا کی دینی تعلیم اور روحانی تربیت میں
پیہم مصروف ِ عمل ہیں۔ ان کے علاوہ مولانا
عبد القدوس، مولانا قاری ریاض شاہ ، مولانا شکیل الرحمان شاہ، ڈاکٹر رمضان بامری، رمضان بلوچ، ن ۔م۔ دانش،
حسین شاہ باکسر، کریم بلال عظیمی، وسیم ہاشمی، کیفی خلیل، پروفیسر شکیل احمد ہوت، سر
جمیل احمد ہوت، خلیل ہوت، سر عبد الباعث، سرزبیر بلوچ، عمیر رزاق، کے علاوہ اور
بھی بہت سی عظیم شخصیات کا تعلق لیاری سے ہے۔گویا لیاری کا خطہ اب پہلے سے زیادہ
سر سبز و شاداب ہے۔ یہ حقیقی معنوں
میں علماء، مفکرین، شعرا، مصنفین، صحافیوں
، اساتذہ، سیاسی او ر سماجی شخصیات کا مر کز ہے۔ یہاں لوگ پیار او ر محبت سے رہتے
ہیں۔
یہاں واضح کردوں کہ مذکورہ بالا شخصیات کے علاوہ اور بھی
بہت سے عظیم لوگ تھے اور ہیں، جن پر لیاری
کی سرزمین ناز کرتی ہے۔ یہ جو میں نے لکھے ہیں، اپنی محدود معلومات کے مطابق لکھے
ہیں۔ اس کے علاوہ جو نام مجھے یہ تحریر لکھتےوقت یاد نہیں آرہے، وہ بھی نہیں لکھ
رہاہوں۔یہ بھی یاد رہے کہ ان ناموں میں حفظ ِ مراتب کو ملحوظ ِ خاطر نہیں رکھا
گیا۔ جس کا نام یاد آتا گیا، لکھتا گیا۔
حرف ِ آخر:
گو ماضی میں لیاری ایک خطرناک علاقہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب
ایسا نہیں ہے۔ میں نے چار حصوں پر مشتمل اپنی اس تحریر میں جو کچھ لکھا ہے، اس سے
آپ بہ خوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لیاری اتنا بھی برا نہیں ہے، جتنا اس کو سمجھا
جاتا ہے۔'دھرندر' والے لیاری کا حقیقی لیاری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ لیاری اور
ہے، یہ لیاری اور ہے۔

تبصرے