دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر1)
تحریر: نعیم الرّحمان
شائق
قسط نمبر1
(اس تحریر کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں، قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں, قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں اور آخری قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ )
پچھلے کئی دنوں سے سوشل میڈیا پربھارت سے رلیز ہونے والی نئی فلم 'دھرندر' کی
بازگشت سن رہا ہوں۔ چوں کہ میں نے یہ فلم نہیں دیکھی ہے، اس لیے مجھے نہیں معلوم
کہ یہ کس نوعیت کی ہے؛ البتہ سوشل میڈیا پر گردش ہونے والی پوسٹوں سے معلوم ہوتا
ہے کہ یہ پاکستان مخالف فلم ہے۔ شنید یہ بھی ہے کہ سندھ حکومت نے اس کے جواب میں 'میرا لیاری' نام کی ایک فلم
بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں پاکستان اور خاص طور پر کراچی کے علاقے لیاری کے
مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے گا۔ اکشے کھنّابھارت کے ادا کار ہیں۔ 'دھرندر' میں
انھوں نے لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عبد الرّحمان بلوچ کا کر دار ادا کیا ہے۔ اکشےکھنّا بھارت کے
فلوپ ادا کار سمجھے جاتے ہیں، لیکن 'دھرندر' نے انھیں بام ِ عروج پر پہنچا دیا ہے۔
بھارت کے معروف ادا کارسنجے دت نے معروف پولیس افسر چوہدری اسلم کا کردار ادا کیا ہے۔
میں اور لیاری
میری زندگی کے تقریباً انتیس سال لیاری میں گزرے ہیں۔ میرا بچپن، لڑکپن اور کسی حد تک جوانی سنگولین،
چاکیواڑہ، نوالین، کمہار واڑہ، بکرا پیڑی،جھٹ پٹ مارکیٹ، افشانی گلی، غریب شاہ،
مولا مدد، شاہ بیگ لین، کلری، لی مارکیٹ(جو پہلے لیاری ٹاؤن میں تھی، اب صدر ٹاؤن
میں ہے)، چیل چوک، میوہ شاہ قبرستان، جہان آباد، فوٹو لین وغیرہ کی گلیوں میں گزری۔ میں لیاری کی گلیوں
میں ہی پلا بڑھا اور پروان چڑھا۔ میری جو ٹوٹی پھوٹی تعلیم ہے، وہ لیاری کے ہی
سکولوں، مدرسوں ، کالجوں اور یونی ورسٹی کی
دین ہے۔ میں زندگی بھر لیاری کا احسان مند رہوں گا۔ لیاری میرا وہ ماضی ہے، جسے
میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا ۔ لیاری کی گلیاں، لیاری کے لوگ، لیاری کے احباب،
لیاری کے یار دوست، لیاری کی باتیں، لیاری کے چوک، لیاری کی چیزیں ۔۔۔ ان سب کو
میں زندگی بھر یاد کرتارہوں گی۔ بلکہ یہ سب کچھ خود بہ خود یاد آتا رہے گا۔
؎ یاد ِ ماضی عذاب ہے یارب!
چھین لے مجھ سے حافظہ
میرا
لیاری میں رہنے والے سے زیادہ لیا ری کو کون جان سکتا ہے؟ لیاری سے متعلق
لیاری میں رہنے والوں سے پوچھا جائے تو
بہتر رہے گا۔ میں اپنی اس تحریر میں وہی بیان کروں گا، جو لیاری میں رہتے ہوئے میں
نے دیکھا، مشاہدہ کیا اور محسوس کیا، تاکہ لیاری کا حقیقی چہرہ ان لوگوں کے سامنے آسکے، جو لیاری کے بارے میں
کچھ نہیں جانتے یا کراچی کے اس قدیم علاقے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔
لیاری کا ماضی
یہ حقیقت ہے کہ کسی
زمانے میں لیاری کے حالات انتہائی خراب تھے۔ ہم گھروں سے باہر نکلنے سے بھی ڈرتے
تھے۔ 2008ء سے 2013ء تک کا پی پی کا دورہم لیاری والوں کے لیے بڑا سخت دور تھا۔ ہم
باہر نکلتے تو نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دیکھتے۔ یہ لوگ سر ِ عام اسلحہ لے کر
ادھر ادھر گھومتے رہتے تھے۔ انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔اس اسلحہ کلچر نے لیاری
کے نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔ بہت سے نوجوان گینگ وار میں شامل ہوگئے۔
لیاری ، کراچی کا ایک غریب علاقہ ہے۔ اُن دنوں لیاری میں بے روزگاری بہت زیادہ
تھی۔ اکثر نوجوانوں نے بے روزگاری کے
ہاتھوں مجبور ہو کر گینگ وار کو چنا۔ یہ
الگ بات ہے کہ 2013ء میں جب مسلم لیگ کی حکومت آئی تو رینجرز نے انتہائی سخت کا ر
روائی کر کے بہت سے نوجوانوں کو قتل کر دیا، جب کہ کچھ ادھر ادھر بھاگ گئے۔ گینگ وار میں ملوث بہت
کم نوجوان ہی ایسے ہوں گے جو زندہ بچے ہوں۔ جو لیاری سے باہرنکل کر کہیں چھپ گئے
،وہ تو بچ گئے۔ لیاری میں رہنے والے گینگ وار میں ملوث لوگوں کو رینجرز نے چن چن کر قتل کیا۔ اس طرح
لیاری سے گینگ وار کا تقریباً خاتمہ ہوگیا
۔
مدرسے میں بم گرے
مدرسہ تدریس القرآن آدم چائے روڈ پر واقع ہے۔ اس مدرسے کےمہتم
میرے والد صاحب ہیں۔ کسی زمانے میں میں اس مدرسے میں پڑھایا کرتا تھا۔ایک دن صبح
کو مدرسے میں بچے پڑھ رہے تھے۔ استاد صاحبان بچوں کو پڑھا رہے تھے۔ اچانک ایک زور دار آواز آئی ۔ بچے سہم گئے۔
استاد بھی ڈر گئے۔ استاد صاحبان نے بچوں کو اکٹھا کیا اور ایک محفوظ جگہ پر منتقل
کردیا۔ دراصل مدرسے کی چھت پر ایک بم
گراتھا۔
اس واقعے کے کچھ عرصے بعد پھر ایک بم گرا۔یہ عصر کا وقت
تھا۔ اس وقت زیادہ تر بچوں کی چھٹی ہو چکی
تھی۔ صرف وہ بچے تھے، جنھیں عصر کے بعد
ٹیوشن پڑھنا ہوتا تھا۔ یہ دھماکاپہلے والے دھماکے سے زیادہ شدید تھا۔ اتنا شدید تھا کہ کافی سارے لوگ جمع ہوگئے۔ کچھ دیر بعد
میڈیا والے بھی آگئے اور پھر رینجرزاور پولیس بھی آگئی۔ ریجرز کے سب سے بڑے افسر
سب سے آخرمیں آئے ۔ آتے ہیں انھوں نے سوال کیا، ”یہ مدرسہ کس مسلک کا ہے؟" یہ سب
میرا آنکھوں دیکھا حال ہے۔
قرآن حکیم کا اعجاز
مدرسےپر دو بم گرے۔دوسرے بم کا دھماکا تو اتنا شدید تھا کہ مدرسے کی چھت کا
ایک حصّہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔ چھت پر ایک بڑا سا شگاف پڑ گیا۔ اس کے باوجود ہمیں کچھ نہیں ہوا۔ نہ بچوں کو کچھ
ہوا، نہ استاد وں کو۔ بحمد للہ ! ہم سب بالکل صحیح سلامت رہے۔ بے شک یہ قرآن ِ
حکیم کا اعجاز تھا۔ ورنہ ہماری کیا اوقات تھی۔ ہم تو کچھ بھی نہیں تھے۔ رب تعالیٰ
کو یہ منظور نہ تھا کہ جس جگہ اس کی مقدس کتاب کی تعلیم دی جارہی ہو، وہاں کسی قسم
کا کوئی جانی نقصان ہو۔
سر ابوبکر کو گولی لگی
سر ابوبکر (میرے مدرسے کےماسٹر صاحب) اوروسیم ہاشمی (میرا چھوٹا بھائی ) بچوں کو عصر کے بعد
مدرسے میں ٹیوشن پڑھا رہے تھے۔ مدرسے کی چھت لوہے کی شیٹ کی تھی۔ اچانک چھت سے ایک
گولی آئی اور سر ابوبکر کے بازو میں اس زور سے لگی کہ ان کے بازو سے خون نکلنے لگا۔ وسیم جلدی سے سر ابوبکر
کو ہسپتال لے گیا۔ ڈا کٹر نے ان کا علاج کیا۔ پٹی وغیرہ باندھی ۔ معلوم نہیں کہ
گولی نکالی یا نہیں نکالی۔ بہر حال کچھ دنوں کے بعد سر ابوبکر بالکل ٹھیک ہوگئے۔سر
ابوبکرا ن دنوں ایک گورنمنٹ پرائمری سکول
کے استاد تھے۔ انتہائی خلیق اور
شریف النفس انسان تھے۔
مشہور شخصیات سے عزیر بلوچ کی ملاقاتیں:
مجھے ابھی تک یاد ہے کہ ایک دن ہم نے گھر کے باہر بہت ساری
گاڑیاں اور پولیس والے دیکھے۔ ہم حیران ہو
گئے کہ کیا ہورہا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس وقت کے صوبائی وزیر ِ داخلہ
ذوالفقار مرزا ، عزیر بلوچ سے ملنے آئے ہیں۔ عزیر بلوچ کا گھر ہمارے گھر کے قریب تھا۔ آئے روز ان سے
بڑی بڑی شخصیات ملنے آیا کرتی تھیں۔ ایک
دن معروف کرکٹر شاہد آفریدی بھی آئے تھے۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ خود آئے تھے یا ان
کو موعو کیا گیا تھا۔ یہ رمضان المبارک کا مہینا تھا۔ میرے خیال میں شاہد آفریدی
نے افطاری بھی وہیں کی تھی۔ عزیربلوچ سے
انٹر ویو لینے کے لیے صحافی بھی آیا کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن دنوں
عزیر بلوچ ایک معروف شخص بن چکے تھے۔عزیر بلوچ کے ہاں سیاسی شخصیات کی آمد اس بات
کا بین ثبوت ہے کہ انھیں اس زمانے میں کسی
حد تک سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔

تبصرے