روحم (قسط نمبر3)

 

”سر، میں آپ کا کب سے انتظار کر رہی ہوں۔ “

”کیوں  ؟ خیریت تو ہے ناں!“وجدان نے حیرت سے پوچھا۔

”جی، خیریت ہی ہے۔ دراصل پچھلےہفتے آپ نے جن چا رکمپنیوں کی ویب سائٹوں پر کام کیا تھا ، ڈیمو سیشن کے لیے ان کے نمائندے آئے ہوئے ہیں۔ وہ آپ کو بلا رہے ہیں۔ “

 


ڈیمو سیشن کا آفس  چوتھے فلور پر تھا۔وجدان کا دل چاہ رہا تھا کہ جب تک چوتھا فلور نہیں آجاتا، وہ لڑکی سے باتیں کرتا رہے۔ اسے اس لڑکی سےمحو ِ گفتگو  ہونے سے پہلے ہی ایک ان جانی سے لذّت محسوس ہو رہی تھی۔ سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے وجدان آگے آگے تھا اور لڑکی اس کے پیچھے پیچھے۔

وجدان نے کہا،” اچھا! تو یہ بات ہے۔”

”جی۔“ لڑکی نے مختصر سا جواب دیا۔

”ان چاروں  کو ایک ہی وقت میں آنا تھا؟وجدان بولا۔

”پتا نہیں  سر!“ لڑکی نے روکھا سا جواب دیا۔

وجدان کا دل چاہاکہ اور باتیں بھی کرے۔

اس نے کہا،”آپ ظفر صاحب سے کَہ دیتیں  ۔ بے چارےکب سے میرا انتظا ر کررہے ہیں۔“

”جی، میں نے ظفر صاحب سے کہا تھا۔ انھوں نے کہا،”جس کا کام اسی کو ساجے۔“ لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”اچھا!! پتا نہیں ظفر صاحب کو محاوروں اور کہاوتوں کا اتنا شوق کیوں ہے؟  بات بات پر کوئی  نہ کوئی محاورہ یا کہاوت جڑدیتے ہیں۔کل مجھے کَہ رہے تھےکہ باس مجھے ناک کا بال سمجھتے ہیں۔“

 

وجدان کے اس چٹکلے  پر لڑکی اتنی زور سے ہنسی کہ وہ حیران رہ گیا ۔ اس نے پیچھے مڑ کر  لڑکی کو  انتہائی غور سے دیکھا۔ لڑکی کی  ہنسی نے اس کا حسن دوبالا کر دیا تھا۔اس کے پھول جیسا چہرہ مزید نکھر گیا تھا۔ مسکان نے اس کے ہونٹوں کو اس طرح تر وتازہ کردیا تھا، جس طرح شبنم گلاب کے پھولوں کو کرتی ہے۔ کلیم کا دل چاہ رہا تھا کہ لڑکی بس ہنستی رہے اور وہ اسے دیکھتا رہے۔ کچھ لمحوں بعد لڑکی کو احساس ہوا کہ اس طرح زور زور سے ہنستے رہنا ادب، وقار اور تہذیب کے خلاف ہے۔ سو وہ سنجید ہ ہوگئی۔

 

حقیقت یہ تھی کہ ظفر صاحب نےوجدان  کو ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔ کلیم نے تو بس لڑکی کو ہنسانے کے لیے یوں ہی جھوٹ بول دیا تھا۔ ظفر صاحب سافٹ وئیر ہاؤس کے سب سے سینئر اور  سب سے زیادہ پڑھے لکھے شخص تھے۔ وہ باتوں باتوں میں محاورے ضرور بولتے تھے،  لیکن وہ اتنے غیر سنجیدہ بھی نہیں تھے کہ وجدان سے ایسی بات کَہ دیں۔

 

وجدان نے چلتے چلتے اور بھی فضول قسم کی باتیں کیں۔ لڑکی بس ' جی ہاں' ، 'جی جی'، 'اچھا' کہتی رہی۔ لڑکی کے چہرے پر نمایاں ہلکا ہلکا تبسّم  بتاتا تھا کہ اسے وجدان  کی باتیں اچھی لگ رہی ہیں، مگر وہ نسوانیت کے اس روگ میں مبتلا تھی، جس میں کائنا ت کی  ہر مؤنث شے مبتلا  ہوتی ہے۔ وہ ہے بہ ظاہر انکار، بہ باطن اقرار۔ دل اگر چہ محبت کے جذبات سے لبریز ہو، مگر زبان پر ایک حرف بھی ایسا نہ آئے کہ جس سے اگلے کو بھنک پڑ جائے کہ ہم بھی کسی کے محبوب ٹھہرے۔ ہر عورت میں غلام عبّاس کے 'مجسّمہ' والی ملکہ کی خُو کسی نہ کسی حد تک موجود ہوتی ہے۔ شاید یہ ازل سے عورت کو  ودعیت کی گئی شرم و حیا کا شاخسانہ ہے کہ وہ بڑی مشکل سے اپنے جذبات  و احساسات کا عقدہ کھولتی ہے۔

 

وجدان کی بے وقوفی دیکھیے کہ اس نے چلتے چلتے لڑکی سے ہمہ اقسام کی فضول باتیں کر ڈالیں، مگرنہ اس سے اس کا نام پوچھا ، نہ یہ پوچھا کہ وہ یہاں  کیا کام کرتی ہے۔ گویا کام کی ایک بات بھی نہ کی۔

 

چلتے چلتے چوتھی منزل آگئی۔ سامنے آفس میں  چار لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان سب کے ہاتھوں میں ایک ایک لیپ ٹا  پ تھا۔وجدان نے دیوار پر لگی سکرین پر کمپنیوں کے چاروں نمائندوں کو باری باری سمجھایا۔ جیسے ہی وجدان سمجھا کر باہر جانے لگا تو ان چاروں نے 'سر، سر' کَہ کر اسے دھر لیا۔ وجدان کی باہر جانے کی کوشش ناکام رہی۔ حالاں کہ وجدان انھیں اچھے طریقے سے سمجھا چکا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے سوالات کے جوابات بھی دے چکا تھا۔ اصولاً ان میں سے جس نمائندے کا ڈیمو مکمل ہوچکا تھا، اسے چلے جانا چاہیے تھے، مگر وہ نہیں گئے اور بیٹھے رہے۔ وجدان رک گیا۔ اب وہ اوٹ پٹانگ سوال کرنے لگے۔ وجدان کو  ان کے سوالوں سے اندازہ ہو گیا کہ یہ چاروں ہی ٹیکنیکل لوگ نہیں ہیں اور آئی ٹی کے شعبے سے کورے ہیں۔ وہ پہلے تو ان کے سوالوں کے جواب دیتا رہا،  مگرکچھ دیر بعد بے زار ہو گیا۔ پھر وہ ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرنے لگا۔ پھر بھی وہ باز نہ آئے۔ وجدان کو غصّہ آگیا۔ وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔ نمائندے اب بھی 'سر، سر' کر رہے تھے۔ سامنے لڑکی کا آفس تھا۔ وہ وجدان کو دیکھ رہی تھی۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کہ یہ کیسا بندہ ہے۔ کسٹمرز کو مطمئن کیے بغیر ہی بھاگ رہا ہے۔ اس نے دل میں سوچا کہ اس طرح تو کمپنی کی ساکھ خراب ہوگی۔

وجدان اس کے آفس کے قریب سے گزرا تو لڑکی نے کہا، ”سر، یہ آپ کو بلا رہے ہیں۔ ظاہر ہے، انھیں کچھ پوچھنا ہوگا۔ آپ انھیں سمجھا دیں۔ کہیں یہ باس سےشکایت نہ کر دیں۔ “

وجدان نے  لڑکی سےپوچھا،” آپ کو یہاں کتنا عرصہ ہوا ہے؟“

”ایک مہینا۔“ لڑکی نے جواب دیا۔

وجدان نے کہا، ”مجھے اس کمپنی میں دو سال ہونے والے ہیں۔ یہ چاروں  لوگ آئی ٹی کی فیلڈسے بالکل کورے ہیں۔ انھیں جتنا سمجھا یا جائے ، کم ہے۔ جتنا مجھ سے ہوسکتا تھا، سمجھا دیا۔ اب میں اس سے زیادہ نہیں سمجھا سکتا ۔ اس طرح کے لوگوں سے مجھے پہلی بار پالا نہیں پڑرہا ہے۔ میرا کام صرف ڈیمو دینا تھا۔ وہ میں نے دے دیا۔ ان کے کچھ الٹے سیدھے سوالوں کے جواب بھی دے دیے۔ اب اور میں کیا کر سکتا ہوں؟“

 

لڑکی نے وہی کیا ، جو ہر نیا ملازم کرتا ہے۔ وجدان نے وہی کیا، جو ہر پرانا ملازم کرتا ہے۔شروع میں ہر کمپنی کا ہر نیا ملازم اس لڑکی کی طرح پُر جوش ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ ملازم پُرانا ہو جاتا ہے، وجدان کی طرح  ہو جاتا ہے۔ نہ زیادہ جوش، نہ زیادہ ولولہ، نہ زیادہ کام۔ اپنا ذمّے کا  کام کیا اور چل دیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

نوٹ: ناول کی تمام اقساط پڑھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کریں:

قسط نمبر 1 ، قسط نمبر 2قسط نمبر3، قسط نمبر4

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 2)

چھوٹوں کی کرپشن

اتحاد و اتفاق