رُوحم (قسط نمبر 4)

 

سافٹ ویئر ہاؤس میں ایک مولوی صاحب بھی کام کرتے تھے۔ انھیں سب نام کی بجائے اکثر'مولوی صاحب'  اور کبھی کبھار 'مولانا صاحب'کَہ کر پکارتے تھے ۔ وہ بڑےسادہ،  ہنس مکھ اور خوش مزاج انسان تھے۔ ہروقت مسکراتے رہتے تھے۔ وجدان کی ان کے ساتھ بڑی بے تکلّفی تھی۔وجدان ، مولوی صاحب سے سینئر تھا۔ مولوی صاحب نے اس کے بعد کمپنی جوائن کی تھی۔ پہلے دن ہی  مولوی صاحب کی سادگی نے  وجدان کا دل موہ لیا۔ مولوی صاحب پہلے دن آئے تو انھوں نے وجدان سے کہا، ”بھائی ، مجھے نہیں معلوم کہ کمپنی والے کتنی تنخواہ دیتے ہیں۔ آپ اس کمپنی میں مجھ سے پہلے سے کام کرتے ہیں۔ میں کتنی تنخواہ کا  کہوں؟“ وجدان کو مولوی صاحب کی معصومیت بڑی اچھی لگی۔ اس نے کہا، ”آپ جتنی تنخواہ چاہتے ہیں، اس سے دو ہزار زیادہ بول دیں۔ اس طرح آپ کو وہی تنخواہ مل جائے گی، جو آپ چاہتے ہیں۔“مولوی صاحب کو وجدان کو مشورہ انتہائی پسند آیا۔ باس نے انھیں آفس میں بلایا تو انھوں نے وجدان کے مشورے پر عمل کیا۔ وجدا ن نے جیسا کہا، ویسا ہی ہوا۔ اس طرح وجدان اور مولوی صاحب گہرے دوست بن گئے۔

 


مولوی صاحب کا کام اسلامی مواد کی نگرانی تھا۔ ایپس، سافٹ وئیرز اور ویب سائٹس وغیرہ میں اکثر اوقات قرآنی آیات، احادیث اور بزرگان ِِ دین وغیرہ کے اقوال لکھنے پڑ جاتے تھے۔ اس طرح کا مواد  یا تو مولوی صاحب کو لکھنے کے لیے دیا جاتا  یا اگر کوئی اور لکھتا تو مولوی صاحب سے چیک ضرور کروایا جاتا۔ باس اسلامی مواد کے معاملے میں کافی سخت واقع ہوئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مولوی صاحب کو سافٹ وئیر ہاؤس میں بہت زیادہ اہمیت حاصل تھی۔

 

ایک دن وجدان   نےمولوی صاحب سے کہا، ”باس کَہ رہے تھے کہ عنقریب  ہم مولوی صاحب کو نوکری سے فارغ کر دیں گے۔“

مولوی صاحب سمجھ گئے کہ وجدان مذاق کے موڈ میں ہے۔ انھوں نے کہا، ”چلو ٹھیک ہے۔ “

وجدان  نے کہا، ”وجہ نہیں پوچھو گے؟“

مولوی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا، ”نہیں۔“

وجدان نے کہا،”میں ضرور بتاؤں گا۔“

مولوی صاحب نے کہا،”آپ بتانے کی زحمت نہ فرمائیں۔“

مولوی صاحب کے منع کرنے کے باجودوجدان نے کہا،”باس کِہ رہے تھے کہ اب ہم مولوی صاحب والا کام چیٹ جی پی ٹی اور گوگل جمنائی سے لے لیں گے۔ مجھے کہا کہ  چوں کہ آپ مولوی صاحب کے دوست ہیں، اس لیے آپ انھیں بتا دینا۔ اس لیے اب  آپ جلد از جلد  کسی دوسری جگہ نوکری کا انتظام کر لیں۔ مہینا ختم ہونے والا ہے۔“

مولوی صاحب  نے چہرے پر مصنوعی حیرت سجا کر کہا،”نہیں یار!!!“

اب مولانا کی باری تھی۔ وہ بولے،”کل مجھے باس نے دفتر میں بلایا اور کہا،” مولانا صاحب!میں یہ کمپنی بند کر رہا ہوں۔ آپ کے علاوہ یہاں کوئی بھی صحیح  طریقے سے کام نہیں کرتا۔ ویسے بھی اے آئی کا دور ہے۔ میں کل پرسوں امریکا جا رہا ہوں۔ دراصل  وہاں کوئی کمپنی اے آئی کے جدیدٹیکنیکس سکھا رہی ہے۔ میں وہ سیکھ کر ایک آن لائن کمپنی بناؤں گا۔آن لائن ملازمین ہائر کروں گا۔ اس سے میری کافی بچت ہو جائے گی۔  کسی کو بتانا نہیں ۔ میں اورآپ دونوں ساتھ میں امریکا چلیں گے۔ یہ لوگ بھاری بھاری تنخواہیں لیتے ہیں اور کام کچھ بھی نہیں کرتے۔ مجھےکافی نقصان ہورہا ہے۔ آپ زندگی بھر میرے ساتھ رہنا اور میری اصلاح کرتے رہنا۔ کسی کو بتانا نہیں ، میں آپ کی تنخواہ  بھی بڑھا دوں گا۔ “

 

وجدان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ خاموشی سے اٹھ کر چلے جائے۔ سچی بات  تو یہ تھی  کہ وجدان طنز و مزاح میں مولوی صاحب کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھا، بلکہ پوری کمپنی میں ان جیسا کوئی نہیں تھا۔ مولوی صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کسی بات کو دل پر نہیں لیتے تھے۔ خفا نہیں ہوتے تھے۔ ادب کے دائرے میں رہ کر ان سے کوئی مذاق کرتا  تو وہ یا تو مسکراتے رہتے تھے یا جواب دیتے تو ایسا دیتے کہ اگلے کی بولتی بند ہوجاتی۔ مولوی صاحب واقعی ایک اچھے انسان تھے۔

 

شروع شروع میں مولوی صاحب لیٹ آتے تھے۔ باس مروّت کی وجہ براہ ِ راست انھیں جلدی آنے کے بارے میں بولنے سے کتراتے تھے۔ دو چار بار انھوں نے دوسرے لوگوں کے ذریعے مولانا کوپیغام بھجوایا، لیکن مولوی صاحب اپنی عادت سے باز نہ آئے۔ وجدان کو حیرت ہوتی تھی  کہ مولانا تو فجر کی نماز بھی ادا کرتے ہوں گے۔ پھر یہ تاخیر سےکیوں آتے ہیں ؟

 

ایک دن باس کو ایک عجیب ترکیب سوجھی۔ انھوں نے مولوی صاحب کو بلایا اور کہا،” مولانا صاحب! کمپنی کا  ماحول خراب ہورہا ہے۔ یہ لوگ دین سے دور ہورہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ان لوگوں کو خراب کر دیا ہے۔مجھے ان کی اصلاح کی بڑی فکر ہے۔ کیا کیا جائے؟“

مولانا صاحب نے آپ اپنے پاؤں میں کلھاڑی مارتے ہوئے کہا ،” سر، انھیں وعظ و نصیحت کی اشد ضرورت ہے۔ یہ لوگ ایسے نہیں سمجھیں گے۔ روزانہ تعلیم کی کوئی ترتیب بنائی جائے۔“

باس نے کہا،”سبحان اللہ! سچ پوچھیے تو آپ نے میرے دل کی بات کَہ دی۔ آپ ایک باعمل عالم ِ دین ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی باتیں انتہائی متاثر کن ہوتی ہیں۔ ظفر صاحب  بتا رہے تھے کہ آپ ایک مسجد میں جمعہ بھی پڑھاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ “

مولوی صاحب نے باس کی بات کاٹتے ہوئے جواب دیا، ”جی، انھوں نے بالکل صحیح کہا ہے۔ الحمد للہ !  اپنے علاقے کی مرکزی مسجد میں میں کئی سالوں سے امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دے رہا ہوں۔ جمعۃ المبارک کے دن لگ بھگ ہزارکے قریب لوگ میرےبیان سنتے ہیں۔ بس یہ اللہ کا کرم ہے اور میرے اساتذہ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔زمانۂ طالب علمی میں اساتذہ کی بڑی خدمت کی ہے۔ “

باس بڑے پریکٹیکل آدمی تھے۔  وہ بھانپ گئے کہ مولوی صاحب اپنی مزید تعریف سننے کے خواہاں ہیں۔ کیوں نہ ،تعریف کرتے کرتے ان کو ایک ایسا کام سونپ دیا جائے کہ  یہ روزانہ جلدی آجائیں، بلکہ پورا سٹاف ہی جلدی آجائے۔ وہ بولے،”کیا بات ہےآپ کی! آپ ہمارے لیے کسی ہیرے سے کم نہیں ہیں۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ جیسا ایک عظیم انسان ہمارے ہاں کام کررہا ہے۔چوں کہ آپ ایک داعی اور مبلغ ہیں ، اس لیے  آپ  ہر روز  صبح کے وقت کام شروع ہونے سے پہلے صرف دس منٹ پورے سٹاف کو وعظ و نصیحت کیا کریں۔ میں پورے سٹاف سے کَہ دیتا ہوں کہ آپ کے درس میں شمولیت سب کےلیے لازمی ہوگی ۔ میں خود بھی آپ کے درس میں شامل ہوں گا۔ “

باس کو جب بھی کسی سے کام لینا ہوتا تو اس کی بڑی تعریف کرتے۔ اتنی تعریف کہ اگلے کو کام نہ بھی کرنا ہوتا تو  بھی وہ خوشی خوشی تیار ہو جاتا تھا۔شاید انھوں نے بچپن میں  یا لڑکپن میں علامہ اقبال کی نظم ”ایک مکڑا اور مکھی“ پڑھی ہو اور اُس نظم کے اِس شعر نے ان کے دل و ماغ پر خاص اثر کیا ہو:

؎سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں

دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا


جاری ہے۔۔۔۔۔

نوٹ: ناول کی تمام اقساط پڑھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کریں:

قسط نمبر 1 ، قسط نمبر 2قسط نمبر3، قسط نمبر4

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 2)

چھوٹوں کی کرپشن

اتحاد و اتفاق