رُوحم (قسط نمبر 2)

 

تحریر: نعیم الرّحمان شائق

یہ کَہ کر وجدان نے پھر سے لکھنا شروع کردیا۔ لڑکی وہیں کھڑی اپنی دوستوں سے باتیں کرتی رہی۔ لڑکیوں کی باتوں کی آوازیں وجدان تک پہنچ رہی تھیں۔ وجدان لکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی باتیں سننے کی کوشش بھی کر رہاتھا۔ اس کی آدھی توجّہ لکھنے کی طرف تھی تو آدھی توجّہ لڑکیوں کی بات کی طرف۔ جب انسان دو کام ایک ہی وقت میں   سر انجام دینے کی کوشش کرتا ہے تو اکثر دونوں کام ادھورے رہ جاتے ہیں۔ یہی حال وجدان کا تھا۔ نہ وہ صحیح طریقے سے لکھ پا رہاتھا، نہ وہ لڑکیوں کی باتیں سن پا رہا تھا۔ اس لڑکی نے ایک بار پھر وجدان کو دیکھا۔ وجدان حسب ِ سابق صفحوں کے نیچے بغیر کچھ رکھے ابھی بھی لکھنے میں مصروف تھا۔لڑکی کو اچھا نہیں لگا۔ وہ  ایک بار پھر گویا ہوئی ، ”سر، آپ یہ فائل لے لیں۔ آپ کو لکھنے میں دشواری ہورہی ہے۔ مجھے فی الحال اس فائل کی ضرورت نہیں ہے۔“ واجدان نے پہلے کی طرح اس بار بھی صاف صاف منع کر دیا۔

 


یوں لگتا تھا، جیسے وجدان لڑکی کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس نے اپنی چیزیں مانگ کر اچھا نہیں کیا۔ جب اسے فائل کی ضرورت ہی نہیں تھی  تو اس نے مانگی کیوں ؟ اگر  پرائیویسی کا مسئلہ تھا تو چپکے سے آکر اپنی ڈائری اٹھالیتی۔ فائل بعد میں لے لیتی۔کیا پڑھائی میں حائل ہونا ضروری تھا ؟ دوسری طرف لڑکی کو  بھی اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اسے وجدان سے اپنی چیزیں نہیں مانگنی چاہیے تھیں۔ شاید اسی لیے اس نے دو بار وجدان کو اپنی فائل دینے کی کوشش کی ، لیکن 'سنگ دل' وجدان نے دونوں بار مخمور نگاہوں والی اس معصوم حسینہ  کی پیش کش ٹھکراکر اس کا  دل چھلنی کر کے رکھ دیا تھا۔

 

عجیب بات یہ تھی کہ چند لمحے قبل وجدان کے دل میں پہلی بار اس لڑکی کے  لیےمحبت کے جذبات اٹھے تھے۔ کچھ دیر پہلے وہ لڑکی کے حسن و جمال میں اتنا  کھو گیا تھا کہ اسے اپنے ارد گرد کا ہوش بھی نہ رہا تھا، مگر اب وہ بالکل بدل گیا تھا۔ اس کی انا  اس کی محبّت  پر غالب آگئی تھی۔ وجدان کا مزاج ہی ایسا تھا۔وہ اپنی طبیعت کےخلاف کسی بھی کام کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اسے اپنے  مخالفین ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔

 

کچھ دیر بعد کام کا وقت شروع ہوگیا ۔پورا سٹاف منتشر ہوگئے۔ سب کے سب اپنی اپنی نشستوں کی جانب چل پڑے۔ وجدان نے بھی اپنا سامان سمیٹا، بستے میں ڈالا اور اپنے دفتر کی طرف چل پڑا۔

 

وجدان ایک سافٹ وئیر ہاؤس میں کا م کرتا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ  وہ بہت زیادہ تعلیم یافتہ نہیں تھا۔ وہ  ایک غریب خاندان کا فرد تھا۔ کسی زمانے میں اس نے کمپیوٹر کے چند کورسز کیے تھے۔ پھر یوٹیوب سے وڈیوز دیکھ کر اور یاروں دوستوں سے پوچھ پاچھ کر ویب سائٹیں بنانے کی سدھ بدھ حاصل کی۔ اسے  اس فیلڈ میں پہلی نوکری بڑی مشکل سے ملی تھی، مگر پھر اس نے بہت محنت کی ۔ یہ اس کی محنت کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ مشکل سے مشکل  ٹیکنیکل مسئلہ بھی  بہ آسانی حل کر لیتا تھا۔ اس کے یار دوست اسے  ویب ڈویلپر سمجھتے تھے، مگر وہ خود کو کمپیوٹر اور آئی ٹی کا سٹوڈنٹ سمجھتا تھا۔ اسے اب کام کرتے کرتے دس سال ہوگئے تھے۔ ان دس سالوں میں اس نے کئی  کمپنیاں بدلیں۔ کیوں بدلیں ؟ وجہ تنخواہ تھی۔ چوں کہ وجدان کے پاس پیشہ ورانہ تعلیم نہیں تھی اور اس کے پاس کسی مشہور یونی ورسٹی کی ڈگری بھی نہیں تھی، اس لیے وہ جہاں بھی کام کرتا ؛ اسے کم تنخواہ ہی دی جاتی تھی۔ اسے جب بھی پتا چلتا کہ فلاں کمپنی کچھ زیادہ تنخواہ دے رہی ہے تو وہ  فوراً پچھلی کمپنی کو خیر با د کَہ کر دوسری کمپنی میں چلا جاتا۔ شروع  میں   تعلیم کی کمی کی وجہ سے اسے  کوئی بھی ادارہ نوکری پر رکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا، مگر جب وہ   بتاتا کہ وہ فلاں فلاں کمپنیوں میں کام کر چکا ہے اور اس کے پاس   کام کی اچھی خاصی مہارت ہے  تو اسے کام کے لیے رکھ لیا جاتا تھا۔ پھرجب وہ عملی طور پر کام کر کے بھی  دکھاتا تو سب کو یقین ہوجاتا کہ واقعی یہ باصلاحیت شخص ہے۔ بس تعلیم کی کمی ہے۔ کمپنی والے تعلیم کی کمی کو جواز بنا کر اسے پچھلی کمپنی  کی تنخواہ سے دو تین ہزار بڑھا کر دے دیتے تھے۔ بے چارا وجدان اس پر قناعت کر جاتا۔ کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد اس کے من میں ایک بار پھر حرص انگڑائی لیتی  اور وہ اس کمپنی کو چھوڑکر دوسری کمپنی کا رخ کرجاتا۔

 

وجدان کمپنی میں ایک شریف اور نیک   نوجوان  کی حیثیت سے مشہور تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ نہایت کم گو تھا۔اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ کسی سے زیادہ گھلتا ملتا نہیں تھا۔ آفس میں کام کے دوران ظہر کی نماز کا وقت ہوتا تو سب کام چھوڑ چھاڑ کر مسجد چلا جاتا۔ یہ الگ بات تھی کہ چھٹی والے دن اور آفس ٹائم کے علاوہ شاذو نادر ہی مسجد کا منھ دیکھتا تھا۔ وجدان کو اپنی یہ  دو رنگی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی، مگر وہ خود کو تبدیل کرنے سے قاصر تھا۔ وہ خلو ت و جلوت میں یک ساں ہونا چاہتا تھا، مگر نہیں ہو پا رہا تھا۔

 

وجدان وقت کا  انتہائی پابند تھا۔ وہ چھٹیاں بہت کم کرتا تھا۔اس کی یہ باقاعدگی اسے پورے عملے سے ممیّز کرتی تھی۔ اس کی کمپنی میں اس جیسا وقت کا پابند کوئی  نہیں تھا۔ دس  سالہ نوکری کے تجربے میں اس نے  سیکھا تھا کہ اگر کوئی ملازم وقت کا پابند ہو اور چھٹیاں نہ کرے تو وہ کام یاب ملازم بن جاتا ہے؛ چاہے وہ اپنے کام میں زیادہ ماہر نہ بھی ہو۔ اس کے بر عکس جو شخص وقت کا پابند نہیں ہوتا اور خواہ مخواہ چھٹیا ں کرتا ہے، وہ کام یاب نہیں ہوسکتا ، چاہے وہ اپنے کام میں انتہائی ماہر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ اس کا ذاتی خیال تھا، جو درست ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا ۔


ایک دن وجدان ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد سافٹ ویئر ہاؤس میں داخل ہوا تو وہی لڑکی دوڑتی ہوئی آئی اور وجدان سے بولی، 


جاری ہے۔۔۔۔۔

نوٹ: ناول کی تمام اقساط پڑھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کریں:

قسط نمبر 1 ، قسط نمبر 2قسط نمبر3، قسط نمبر4

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 2)

چھوٹوں کی کرپشن

اتحاد و اتفاق