رُوحم (قسط نمبر 1)
تحریر:
نعیم الرّحمان شائق
وجدان
آفس میں کچھ دیر پہلے پہنچا۔ ابھی اس کے
کام کا وقت نہیں ہوا تھا، اس لیے ایک خالی میز کے قریب کرسی پر بیٹھ گیا۔ اسے پڑھنے
لکھنے کا بے حد شوق تھا۔ نوکری کے باوجود وہ پرائیویٹ پڑھ رہا تھا۔ وہ دفتر جاتا
تو ساتھ نوٹس، کتابیں، خالی صفحےاور پین وغیرہ بھی لے جاتا۔ اسے تھوڑا سا بھی وقت ملتا
تو پڑھنا لکھنا شروع کر دیتا تھا۔ گو اسے پڑھنے کا شوق تھا، لیکن ساتھ ساتھ وہ یہ
بھی چاہتا تھا کہ اس کے کولیگز اسے پڑھا کو سمجھیں۔ جب وہ محسوس کرتا کہ اس کے
کولیگز اسے دیکھ رہے ہیں تو پڑھائی لکھائی میں اس کا انہماک قدرے بڑھ جاتا۔عام
انسانوں کی طرح اس میں بھی کسی حد تک خود
نمائی تھی۔ انسان تھا۔ اور وہ بھی عام سا
انسان۔ نہ کوئی فقیر، نہ کوئی بابا، نہ کوئی عالم ، نہ کوئی فقیہ ۔ہاں! فرشتے ہمہ
اقسام کی خود نمائی سے مبرّا ہوتے ہیں
اوروہ فرشتہ نہیں تھا۔ دل میں خود نمائی اور اس قسم کے دیگر خیالات کا پیدا ہونا
اس کے لیے فطری تھا۔
وجدان
نے موبائل نکالا اور ٹائم دیکھا ۔ وہ وقت کا خاصا پابند تھا۔ اس کے پاس بیس منٹ
تھے۔ حسب ِ معمول اس نے اپنے بیگ سے ایک کتاب
نکالی۔ پانچ منٹ تک اس کا مطالعہ کیا۔ پھر دو صفحے اور پین نکالا۔ صفحے دوہی تھے۔اس نے محسوس کیا کہ صفحوں کے نیچے بغیر
کچھ رکھے لکھنا دشوار ہے۔ اس نے میز پر ایک ڈائری اور ایک فائل دیکھی۔ ہونا تو یہ
چاہیے تھا کہ وہ اپنے بیگ سے کتاب نکالتا اور صفحوں کے نیچے رکھ لیتا ، مگر نہ
جانے اس کے ذہن میں کیا آیا کہ اس نے وہ فائل اٹھالی اور صفحوں کے نیچے رکھ دی۔ اب
وہ للچائی آنکھوں سےڈائری کو دیکھنے لگا۔ اس کا دل چاہا کہ ڈائری کھول کر پڑھنا
شروع کردے، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا ۔ اجازت کے بغیر کسی کی ڈائری کھول کر پڑھنا
اسے اچھا نہیں لگا۔ پھر اس نے صفحوں پر دہرایا ہوا سبق لکھنا شروع کر دیا۔ لکھتے
لکھتے ڈائری پر بھی نظر ڈال لیتا۔اسے یہ ڈائری بھلی لگنے لگی۔ ڈائری واقعی بہت خوب
صورت تھی۔ ڈائری کی نفاست اور اس پر لگائے گئے مصنوعی بیل بوٹے بتاتے تھے کہ یہ
کسی لڑکی کی ڈائری ہے۔ اس کے ظاہری حسن نے وجدان کا دل موہ لیا۔ ایک بارپھر ا س نے
سوچا کہ ڈائری کھول کر پڑھ لے، مگر اس بار بھی اس نے دل کی بجائے دماغ کی بات
مانی۔ اس نے ڈائری نہیں کھولی۔ ڈائری پڑی کی پڑی رہ گئی۔
وجدان
کو لکھتے ہوئے کم و بیش چھے ، سات منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ اس نے سنا:
“Excuse me, Sir!”
اس
نے نظر اٹھا کر دیکھا تو اس کے سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی۔ چوں کہ وہ اپنے کام سے
کام رکھتا تھا اورکم گو تھا، اس لیے اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ لڑکی کون ہے، اس کا
نام کیا ہے اور کب سے یہاں کام کر رہی ہے؛ البتّہ ”سر“ کے لفظ اس نے یہ اندازہ ضرور لگالیا کہ یہ لڑکی اس سے جونئر ہے۔ جب اس نے لڑکی کی طرف دیکھا تو اس نے کہا:
”سر
،یہ فائل اور ڈائری میری ہے۔ مجھے دے دیں۔“
اس
نے ”سوری“ کہتے ہوئے ڈائری اور صفحے کے نیچے رکھی ہوئی فائل اسے دے دی۔ یہ چیزیں
دیتے ہوئے اس کی نظر ایک بار پھر اس پر پڑی ۔ وہ دوسری بار اسے دیکھ رہا تھا۔ اس
بار اسے یہ لڑکی اچھی لگنے لگی۔وہ لڑکی کی
آنکھوں کے سحر میں کھوگیا۔ اس کی آنکھیں نہایت حسین تھیں۔ لڑکی کے آنکھوں کے حسن اور چہرے پر چھائی معصومیت نے وجدان کا
دل موہ لیا۔ وجدان اسے ڈائری اور فائل دیتے ہوئے کچھ لمحوں تک تکتا رہا۔
پھر اسے محسوس ہوا کہ یہ عمل مناسب نہیں ہے۔ کسی ان جان لڑکی کو اس طرح سب کے سامنےتکتے رہناانتہائی گھٹیا حرکت ہے ۔
کولیگز کی نظر پڑگئی تو بے عزتی ہوجائے گی۔ اس نے نظریں ہٹالیں ۔ لڑکی کی چیزیں اس کے حوالے
کیں اور اپنی جگہ آ بیٹھا۔
وجدان
کی زندگی میں عشق و محبت کا کوئی تصوّر نہیں تھا۔ وہ اسے فضول عمل سمجھتا تھا۔ اسے
محبّت سے نفرت تھی۔ ہوسکتا ہے، غم ِ روزگار نے اسے اس سلسلے میں سوچنے کا موقع ہی نہ دیا ہو! ہوسکتا ہے، کوئی اور وجہ ہو۔بہر حال! حتمی طور
پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عشق و محبّت جیسے کائنات کے حسین ترین جذبے سے اتنا
دور کیوں کر تھا ؟
آج
لڑکی کو دیکھ کر اس کے دل میں محبت کا ہلکا سا شگوفہ کھلا ۔ اس کا من خوشی سے بھر
گیا۔ ایسی خوشی ، جو اس سے پہلے اسے کبھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔اسے ایک عجیب قسم کی
راحت محسوس ہوئی۔یہ راحت اس کے لیے ایک نیا تجربہ تھی۔ اسے زندگی میں پہلی
بار احساس ہوا کہ محبت میں ملنے والی
خوشی، راحت اور چین کا ایک اپنا ہی لطف اور مزہ ہوتا ہے۔ اس کے دل میں ایک ایسا فرحت بخش احساس جاگا ، جس
پر وہ اپنے ماضی کے تمام حسین احساسات کو
قربان کر سکتا تھا۔
لڑکی
وہیں کھڑی اپنی دوستوں سے باتیں کرنے لگی۔ وجدان ایک بار پھر اپنی جگہ آبیٹھااور
لکھنے میں مصروف ہو گیا۔ کچھ لمحوں تک اسے لڑکی یاد آتی رہی۔ کچھ دیر بعد اس کی توجہ
مکمل طور پرلکھنے کی طرف ہوگئی۔
پھر وہ پڑھائی میں اتنا مصروف ہوگیاکہ بھول گیا
کہ چند لمحے پہلے اس کے من میں محبت کا ایک شگوفہ کھلا تھا۔ اس کی سو فی صد
توجہ پڑھائی کی طرف ہوگئی۔ اس نے ایک بار پھر لکھنا شروع کردیا۔ اب وہ
صفحوں پر لکھ تو رہا تھا، مگر نیچے کچھ رکھے بغیر۔ اس کے بیگ میں کتابیں موجود تھیں،جن میں سے کسی
ایک کتاب صفحے کے نیچے رکھ کر لکھ سکتا
تھا؛ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ لڑکی نے جب دیکھا کہ یہ شخص صفحوں کے نیچے کچھ رکھے بغیر لکھ رہا ہے اور
اسے لکھتے ہوئے دشوار ی ہورہی ہےتو اس نے کہا، ”سر آپ یہ فائل لے لیں اور اس کو
پیجز کے نیچے رکھ دیں۔ مجھے بعد میں دے دینا۔“وجدان کی نگاہ ایک بار پھر اٹھی۔ اس
نے لڑکی کی طرف دیکھ کر کہا،”نہیں ، نہیں ، اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں ایسے ہی
ایڈجسٹ کر لوں گا۔ “
جاری ہے۔۔۔۔۔
نوٹ: ناول کی تمام اقساط پڑھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کریں:

تبصرے