رویّہ

 

تحریر: نعیم الرّحمان شائقؔ

(نوٹ: 23 نومبر بروز اتوار کی نوکریوں کی پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں موجود لنک پر  کلک کریں۔)

اسے بچوں کا ب فارم بنوانا تھا۔ وہ نادرا کے آفس میں گیا۔ کافی تگ و دو کے بعد افسر تک پہنچا۔ افسر نے عینک لگا رکھی تھی۔ اس کے سامنے کمپیوٹر تھا۔ غرور و تکبّر کے مارے افسر نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ کرسی ہونے کے باوجود افسر نے اسے یہ نہیں کہا کہ بیٹھ جائیں۔ وہ کھڑا رہا۔ افسر نے اس سے کاغذات لیے اور کمپیوٹری کا رروائی کرنے لگا۔ اس نے افسر سے کہا، ”سر نام وغیرہ د رست لکھیے گا۔ “

افسر کو اس کی بات پسند نہ آئی۔ کہنے لگا، ”ہم یہاں جھک مارنے کے لیے بیٹھے ہیں؟ تم کیسی بات کر رہے ہو؟“



اس نے مسکراتے ہوئے کہا، ”سر، یہ بات نہیں ہے۔ ہمارے گاؤں میں ایک بچے کی عمر ب فارم میں  آپ نے دس سال کم کردی ہے۔جس کی وجہ سے بچے کو سکول میں داخلہ نہ مل سکا۔  اس کے علاوہ ایک دوست نے بتایا کہ آپ نےان کے بچوں کے ب فارم میں  بڑے بھائی کو چھوٹا بنادیا ہے اور چھوٹے کو بڑا بنا دیا ہے۔ رشوت، دفتری کارروائیوں ، افسروں کے نخروں اور وقت کے ضیاع کے ڈر سے انھوں نے بچوں کے نام تبدیل کر دیےہیں۔ گاؤں کے لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے۔ وہ پرنٹ شدہ فارم کو چیک نہیں کر پاتے ۔ نتیجتاً نادرا کی طرف سے فراہم کردہ ان کی دستاویزات میں فاش غلطیاں رہ جاتی ہیں۔بعد میں ان غلطیوں کی وجہ سے انھیں کئی مسائل درپیش آتے ہیں۔ “

افسر کو مزید غصّہ آگیا۔گو اس کی بات صحیح تھی، مگر افسر کو یہ بات پسند نہ آئی کہ گاؤں سے آیا ہوا ایک عام سا شخص اسے سمجھا رہا ہے۔ اس نے غصّے سے کہا، ”اچھا! اچھا! اب خاموش رہو۔ آپ چیک کر لینا ۔ ہم یہاں ایسے نہیں بیٹھے ہوئے ۔“

افسر نے اسے پرنٹ نکال کر دیا۔ افسر نے اس کا حلیہ دیکھا تو وہ اسے ایک گنوار شخص لگا۔ اس گنوار نے ب فارم اور پیدائشی سرٹیفکیٹ کو غور سے دیکھنا شروع کردیا۔ ایک ایک چیز چیک کرنے لگا۔ بالآخر افسر صاحب کی ایک فاش غلطی اسے نظر آگئی۔ افسر نے اس کے چھوٹے بیٹے کا نام  کی سپیلنگ غلط لکھی تھی۔ اس نے فوراً کہا، ”سر، آپ نے میرے بیٹے کے نام کی سپیلنگ غلط لکھی ہے۔اسے صحیح کر کے دیں۔“افسر  نے اس شخص کو غور سے دیکھا ۔ پھر پیدائشی سرٹیفکیٹ لے کر صحیح کرنے لگا۔

 

رویّوں کی تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔ خاص طور پر افسروں، ڈاکٹروں ، کلرکوں کے لیے ۔ خاص طور پر  سرکاری ملازموں کے لیے ۔ بلکہ میں تو سمجھتا ہوں کہ سرکاری افسروں کو نوکری  دینے سے پہلے  ایک سال کی تربیتی ٹریننگ سے گزارا جائے۔ اس پورے سال میں انھیں یہ سکھایا جائے کہ ان کا رویّہ عوام کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے۔

 

اوپر بیان کردہ واقعات سے ملتے جلتے کئی واقعات روزانہ سرکاری و نجی دفاتر میں پیش آتے ہیں۔ انسان اخلاق سے پہچانا جاتا ہے۔ تعلیم ہو، تربیت نہ ہوتو کیا فائدہ؟انسان کا اصل زیور اس کا اخلاق ہے۔ ہر سرکاری و غیر سرکاری ملازم کو اس سلسلے میں ضرور سوچنا چاہیے۔


نوکریوں کی پی ڈی ایف نیچے دی گئی لنک پر ہے:

https://drive.google.com/file/d/1H9IykUKM0UZjLtXAEkr_LrgW2hqKVAtz/view?usp=sharing



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 2)

چھوٹوں کی کرپشن

اتحاد و اتفاق