نعیمیات
تحریر:
نعیم الرّحمان شائق
قسط
نمبر 3
·
ہر وہ شخص غریب ہے، جس کا دل غریب ہے۔ ہر وہ شخص امیر ہے ، جس کا دل امیر ہے۔
·
ہرشکر گزار آدمی کے رزق میں وسعت ہے۔ ہر ناشکرے شخص کے رزق
میں تنگی ہے۔
·
بے شک حقیقی سکون اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔
·
رب تعالیٰ کے ہاں مقبولیت چاہتے ہیں تو انسانوں کی زیادہ سے
زیادہ خدمت کیجیے۔
·
جو عزت نہیں کرتا، اس کی عزت نہیں کی جاتی۔ عزت دو، عزت لو۔
·
عاجزی رب تعالیٰ کو نہایت محبوب ہے۔ تکبر اللہ تعالیٰ کو
سخت ناپسند ہے۔ اس لیے عاجزی اختیار کیجیے ۔تکبر سے بچیے۔
·
جس نے اپنی ذات کے لیے لوگوں سے مانگنا شروع کردیا ، اس نے
خود پر فقر کا دروازہ کھول دیا۔
·
اخلاص سے کی ہوئی ایک نیکی ، دکھاوے سے کی ہوئی ہزاروں
نیکیوں پر بھاری ہے۔
·
بدی کو عروج نہیں، نیکی کو زوال نہیں۔
·
قرآن حکیم حکمت کا سب سے بڑا سرچشمہ ہے۔
·
مقام ِ شکر کے حصول کے لیے اپنے سے کم تر لوگوں پر نظر
کیجیے، نہ کہ اپنے سے برتر انسانوں پر۔
·
چھوٹا کام کریں، لیکن مستقل کریں۔
·
ماضی کی ناکامیوں اور حسرتوں سے پیچھا چھڑا لو۔ پر سکون ہو
جاؤ گے۔
·
مستقبل کے اندیشوں سے بے خوف ہو جاؤ۔ پر سکون ہو جاؤ گے۔
·
خواہشات کو محدود کردو۔ پر سکون ہو جاؤ گے۔
·
لینے کے بجائے دینا شروع کردو۔ پر سکون ہو جاؤ گے۔
·
رب تعالیٰ ے تعلق جوڑ لو ۔ پر سکون ہو جاؤ گے۔
·
کثرت کی خواہش چھوڑ دو۔ پر سکون ہو جاؤ گے۔
·
اپنی ذات کے لیے لوگوں پرتنقید کر نا چھوڑ دو۔ پر سکون ہو
جاؤ گے۔
·
ادب کرنے والے آگے نکل جاتے ہیں۔ بے ادب پیچھے رہ جاتے ہیں۔
·
رسول اکرم ﷺ سے گہری محبت کا نسخۂ اکسیر درود شریف کی کثرت
ہے۔
·
برائیاں دیکھنی ہیں تو اپنی دیکھیں ۔ اچھائیاں دیکھنی ہیں
تو دوسروں کی دیکھیں۔
·
معیشت کی مضبوطی آسائشات کو محدود کرنے میں پنہاں ہے۔
·
ادب عاجزی پیدا کرتا ہے۔ بے ادبی تکبر پیدا کرتی ہے۔
·
جاہل کی عاجزی عالم کے غرور سے بہتر ہے۔
·
حقیقی فقیری رب تعالیٰ کے در کی فقیری ہے۔ اس کے در کے فقیر
ہو جاؤ۔ ہر قسم کی فقیری سے بچ جاؤ گے۔
·
حقیقی بزرگ وہ ہے، جس کا باطن ہر قسم کی روحانی بیماریوں سے
پاک ہے۔
·
توکل کی کم زوری مستقبل کے اندیشوں پر منتج ہو تی ہے۔
·
امیری تو قناعت میں پنہاں ہے۔ دولت میں کہاں ہے؟
·
تقویٰ تمام نیکیوں کی جڑ ہے۔ تمام نیکیوں کے سوتے تقوےسے
پھوٹتے ہیں۔
·
حق دار کو وقت پر حق دینا اس کا سب سے بڑا حق ہے۔
·
ہرانسان کو سوچنا چاہیے کہ اس کی ذات سے خلق ِ خدا کو کتنا
فائدہ پہنچ رہا ہے۔
·
اپنی تعریف آپ کرنے والا شخص اکثر قابلیتوں اور صلاحیتوں سے
خالی ہوتا ہے۔
·
حقیقی تعریف وہ ہے، جو دوسرے کریں۔ اپنے منھ سے اپنی تعریف
مستند نہیں ہوتی۔
·
تعلیم ذہنی و طبعی میلان اور دل چسپی کو مد ِ نظر رکھ کر
حاصل کرنی چاہیے۔ نہ کہ دوسروں کی دیکھا دیکھی۔
·
احسان کرکے جتلانا اس کے اخروی اجر کو ضائع کر سکتا ہے۔ اس
ضمن میں احتیاط ضروری ہے۔
·
کائنا ت کا حسین ترین جذبہ محبت کا جذبہ ہے۔
·
حقیقی خوب صورتی باطن کی خوب صورتی ہے۔
·
خواہشات کو محدود کر دو ۔ زندگی آسان ہو جائے گی۔
·
فضول خرچی معیشت کی کم زوری پر منتج ہوتی ہے۔
·
زندگی بڑی مختصر ہے۔ محبت کریں۔ نفرت سے دور رہیں۔
·
یہ کائنات حیرتوں سے بھری ہوئی ہے۔ کسی کا سکوت بھی کلام
کرتا ہے۔ کسی کا شور بھی بے فائدہ ثابت ہوتا ہے۔
·
کم زور کے سامنے اپنی طاقت کا اظہار نہ کرو۔ غریب کے سامنے
اپنی دولت ڈھنڈورا نہ پیٹو۔ جاہل کے سامنے اپنے علم کے نغمے نہ گاؤ۔
·
بھوکے کو مت بتاؤ کہ میرا پیٹ بھرا ہوا ہے۔ جاہل کو مت بتاؤ
کہ میں عالم ہوں۔ غریب کو مت بتاؤ کہ میں دولت مند ہوں۔
·
نیکی کرکے اس کا ڈھنڈور اپیٹنا نیکی کو ضائع کرنے کے مترادف
ہے۔
·
زندگی میں ایک نہ ایک کام ایسا ضرور کیجیے، جو محض اللہ
تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو۔
·
اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ایمان اور اعمال صالحہ دونوں
ضروری ہیں۔
·
نیکی اس طرح کریں کہ اس کا علم صرف آپ کے رب کو ہو، آپ کو
ہو اور جس کے ساتھ نیکی کی گئی ہو، اس کو
ہو۔
·
قابل شخص کے کارنامے دنیا بیان کرتی ہے۔ ناقابل شخص اپنے
کارنامے خود بیان کرتا ہے۔
·
موت کو یاد کرنے سے آخرت کی فکر بڑھ جاتی ہے۔
·
زیادہ بولنے والا شخص اکثر اپنے راز لوگوں کے سامنے کھول
دیتا ہے۔
·
انا کو مات دینے کے لیے ”میں“ کو مارنا پڑے گا اور ”میں
“ کو مارنے کے لیے خود کو دوسروں سے حقیر سمجھنا پڑے گا۔
·
میں، میں نہ کیا کرو، کیوں کہ اس میں تفاخر کی جھلک ہے اور
تفاخر رب تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔
·
وہ گناہ جو عاجزی پیدا کردے، اس گناہ سے بہتر ہے ؛ جو غرور
پیدا کر دے۔
·
جب بھی دل بے قرار
ہو تو جان لیجیے کہ اس کو ذکر اللہ کی ضرور ت ہے۔
·
چند روزہ زندگی ہے۔ سو نفرت نہیں ، محبت کا پرچار کیجیے۔
·
دنیوی چیزوں پر اتنے بھی فریقتہ نہ ہو جائیے کہ چھوڑتے ہوئے
حد سے زیادہ غم سے دو چار ہو نا پڑے۔
·
ہر محبت کو زوال ہے۔ سوائے اللہ تعالیٰ اور آقا علیہ السلام
کی محبت کے۔
·
زندگی بڑی مختصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جتنی نیکیاں
کر سکتے ہیں، کر لیجیے۔
·
کسی کو کم تر نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہو سکتا ہے، جس کو ہم اپنے
آپ سے کم تر سمجھ رہے ہیں، اس کا مقام
اللہ تعالیٰ کے ہاں ہم سے زیادہ بلند ہو۔

تبصرے