ہمارے ہیڈ سر
تحریر:
نعیم الرّحمان شائق
قسط
نمبر4
ہیڈ سر کے لکھے ہوئے مواد پر نظر ِ ثانی:
شروع شروع میں ہیڈ سرنے پہلی سے
آٹھویں تک کی اردو کی کتابوں کی تیاری کا کام میرےسپرد کر دیا۔ میرے خیال میں مجھ سے
پہلے ہیڈ سر پہلی ، دوسری اور تیسری کی
اردو کا مواد تیار کر چکے تھے۔ مجھے کہا کہ آپ اس مواد پر نظرِ ثانی کریں۔ مجھے ان
کی عاجزی پر حیرت ہوئی۔ بے شک وہ مجھ سے زیادہ جانتے تھے،لیکن اس کے باوجود انھوں نے میرے ذمّے یہ
کا م لگا دیا۔ ”الامر فوق الادب“ یعنی ”حکم ، ادب سے بڑھ کر ہے“پر عمل پیرا ہوتے
ہوئے میں یہ کام کرنے لگا۔اس کے ساتھ ساتھ چوتھی اور پانچویں کی اردو پر بھی ہیڈسر
اور میں نے کام شروع کردیا۔ الحمد للہ، کچھ ہی عرصے میں پانچویں تک کی اردو کی
کتابیں بن گئیں۔
”جی، آپ کتابیں لے آئیں“
اب مسئلہ چھٹّی سے آٹھویں تک کی اردو
کی کتابوں کا تھا۔ بیماری کے باوجود ہیڈ
سر نے ان کتابوں پر بھی کام شروع کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جتنا کام ہو
چکاتھا، اسی پراکتفا کرتے۔ زندگی کے آخری ایام چل رہے تھے۔ بیمار ی نے جینا دو بھر
کر دیا تھا۔ کام پر آرام کو مقدّم رکھتے۔مگر سلام ہے، ہیڈ سر کو کہ انھوں نے اپنا
کام جاری رکھا۔ شاید پہلی سے آٹھویں تک کی اردو کی کتابوں کی تکمیل ان کی خواہش
تھی۔ شاید وہ چاہتے تھے کہ یہ کام اپنی زندگی میں سر انجام دے کر جائیں، تاکہ ان
کے بعد جب ان کے سکول کے بچے یہ کتابیں پڑھیں تو انھیں صدقہ ٔ جاریہ کے طور پر ثواب ملتا رہے۔
جب ہم چھٹّی سے آٹھویں تک کی کتابوں
پر کام کر رہے تھے تو ایک دن میں نے ہیڈ سر سے کہا ، ”سر، اگر آپ کی اجازت ہو تو
میں گھر سے کچھ کتابیں لے آؤں؟“ہیڈ سر نے
کہا، ”جی، آپ کتابیں لے آئیں۔یہ بڑی اچھی بات ہے۔ ہمیں سہولت ہو جائے گی۔“دوسرے دن
میں کچھ کتابیں لے آیا۔ ان میں حفیظ ؔجالندھری کی کتاب ”شاہ نامۂ اسلام“، بابائے
اردو مولوی عبد الحق کی کتاب” قواعد ِ اردو“، ”دیوان ِ غالبؔ“، کلّیات ِ، اقبالؒ“ وغیرہ بھی
تھیں۔ اور بھی کتابیں تھیں۔ اب مجھے ان کے نام یاد نہیں ہیں۔ الحمد للہ، کچھ ہی عرصے میں چھٹّی سے آٹھویں تک کی اردو کی کتابیں
بھی تیا ر ہوگئیں۔
سائنس کی کتابوں پر کام:
جب پہلی سے آٹھویں تک کی اردو کی کتابیں تیار ہوگئیں تو ہیڈ
سر نے تیسری سے پانچویں تک کی سائنس کی کتابوں پر کام شرو ع کر دیا۔ایک بار پھر ان
کا خلوص ان کی بیماری سے جیت گیا۔ در اصل وہ بازار میں موجود کتابوں سے مطمئن نہیں
تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کتابیں بچوں کے لیے مشکل ہیں۔ انھیں مزید آسان کیا جا
سکتا ہے۔ جب بچوّں کو آسان مواد فراہم کیا جائے گا تو وہ سمجھ کر پڑھیں گے۔ اس طرح وہ رٹّا نہیں لگائیں گے۔ سائنس میں ان کی
بنیاد مضبوط بنے گی تو اگلی جماعتوں میں ان کے لیے یہ مضمون آسان ثابت ہو گا۔ بازار
میں موجود کتابیں مشکل ہیں۔ بچّے ان کتابوں کو سمجھ کر نہیں پڑھتے۔ استاد کے ڈر
اور امتحان کی فکر کی وجہ سے رٹّے کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح جب بڑی جماعتوں
میں پہنچتے ہیں تو ان کو اس وقت احساس ہوتا ہے کہ ہمیں تو سِرے سے سائنس آتی ہی
نہیں ہے۔
ایسا نہیں تھا کہ ہیڈ سر نے سائنس کا
نصاب ہی تبدیل کر دیا تھا۔ انھوں نے مجوزہ نصاب پر ہی کام کیا ، لیکن بازار میں
موجود کتابوں سےآسان کتابیں بنائیں ۔
سائنس کی کتابوں میں ہیڈ سر کی محنت:
سائنس کی کتابوں میں ہیڈ سر نے انتہائی محنت سے کا م کیا
۔ان کا طریقہ یہ تھا کہ ایک ایک سائنسی اصطلاح پر کافی دیر تک غو ر و فکر کرتے۔
پھر مختلف کتابوں کا مطالعہ کرتے ۔ اس کے
بعددو سے تین تعریفیں بناتے۔ وہ بھی اس
طرح کہ درمیان میں انگریزی کے جو مشکل الفاظ آتےتھے، قوسین یعنی بریکٹ
میں ان کااردو مطالب بھی لکھ دیتے تھے، تاکہ بچّوں کے لیے آسانی ہو
جائے۔ پھر ان میں سے جو آسان تعریف لگتی، وہ کتاب میں شامل کر دیتے۔ یہ طریقہ صرف
سائنسی اصطلاح کے لیے نہیں تھا۔ ان اصطلاحات کی تفصیل لکھتے وقت بھی یہی طریقہ
اپناتے تھے۔
”نعیم الرّحمان ! ان میں سے کو ن سی تعریف آسان ہے؟“
مجھے یا د ہے کہ ایک
دفعہ ساتویں کلاس میں ریاضی کے استاد صاحب نہیں آئے۔ مجھے ہیڈ سر نے کہا کہ
آپ جائیں اور بچّوں کو ریاضی پڑھا دیں، تاکہ ان کا وقت ضائع نہ ہو۔ساتویں جماعت
تیسری یا چوتھی منزل پر تھی۔ ابھی مجھے جماعت میں دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ ہیڈسر نے
مجھے بلوا لیا۔ میں حیران و پریشان ہو گیا ۔ آفس میں پہنچا تو حسب ِ معمول ہیڈ سر
کو کام کرتے ہوئے پا یا۔ میں آیا تو ہیڈ سر نے مجھے کسی سائنسی اصطلاح کی تین
تعریفیں دکھائیں ۔اور پوچھا، ”نعیم الرّحمان! ان میں سے کون سی تعریف آسان ہے؟“میں
نے تینوں تعریفیں دیکھیں۔ پھر ایک تعریف پر ہاتھ رکھ کر کہا ،”سر ، مجھے تو یہ
تعریف آسان لگ رہی ہے۔“ہیڈ سر نے وہی تعریف
مواد میں شامل کر دی۔ مجھے ہیڈ سر کی عاجزی ، محنت اور خلوص پر انتہائی
حیرت ہوئی۔ ایسے لوگ اب کہاں!اب تو ہم جیسے نالائق ہی رہ گئے ہیں۔
؎ جو بادہ کش تھے پرانے ، وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ بقائے دوام لے ساقی
ابوالکلام آزاد کا انتقال ہوا تو شورش
تڑپ کر کَہ اٹھے:
؎ کئی
دماغوں کا ایک انساں ، میں سوچتا ہوں کہاں گیا
ہے؟
قلم
کی عظمت اجڑ گئی ہے، زباں کا زور ِ بیاں گیا
ہے
غالبؔ
نے کہا تھا:
؎مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کے اے لئیم!
تو نے وہ گج ہائے
گراں مایہ کیا کیے؟
درحقیقت ہمار ے ہیڈ سر پرانے باد کش تھے، رخصت ہوگئے ۔ وہ کئی دماغوں کے ایک انسان تھے۔ ان کے جانے سے واقعی قلم کی عظمت اجڑ گئی۔ وہ گنج ِ گراں مایہ تھے۔ ایسے لوگ خال خال جنم لیتے ہیں۔ جب زندہ ہوتے ہیں تو قدر نہیں کی جاتی ۔ انتقال کے بعد ان کے جوہر کھلتے ہیں۔ آج 5 اکتوبر ہے اور میں انھیں بہت یاد کر رہا ہوں۔
جاری ہے۔۔۔۔
”ہمارے ہیڈ سر “ کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
قسط نمبر3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
میری تمام تحریریں اور شاعری پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ٹیگز: آئی ٹی، ادبی، اسلامی، بین الاقوامی،تاریخی،تعلیمی،شخصیات، طنز و مزاح، کتابیں ، معاشرتی، ملی ، میری شاعری، نعیمیات

تبصرے