ہمارے ہیڈ سر

 

تحریر: نعیم الرّحمان شائق

آخری قسط

ہیڈ سر کے آنسو:

            ہمارے ہیڈ سر کو عام طور پر سخت انسان سمجھا جاتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ بڑا سخت بندہ ہے۔ سکو ل کے بچوں اور اساتذہ بھی ایسے ہی سمجھتے تھے۔ جب تک میں طالب ِ علم تھا، دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی  یہی سمجھتارہا، لیکن جب میں ان کے ساتھ کام کرنے لگا تو میں نے مشاہدہ کیا کہ وہ سخت انسان نہیں تھے؛ بلکہ اصول پسند تھے۔ اصول پسندی تو قابل ِ تعریف خوبی ہے۔ میرا یہ خیال اس وقت مزید پختہ ہو گیا ، جب میں نے ان کو روتے ہوئے دیکھا۔ تین مواقع پر وہ اتنے روئے کہ میں بھی غم زدہ ہوگیا۔

            ایک بار، جب انھوں  نے شہید حکیم محمد سعید کا ذکر کیا۔ کہنے لگے، ”ظالموں نے حکیم سعید جیسے اچھے انسان کو بھی نہیں چھوڑا۔ “

            دوسری بار، جب وہ اُمّت اخبار سے مجھے ماں کی عظمت سے متعلق واقعہ سنانے لگے۔ اس وقت پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ ایک بار مجھے کہا، ”میں ماں کی عظمت کا بہت قائل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اردو کی  پہلی جماعت کی کتاب سے لے کر آٹھویں جماعت کی کتاب تک۔۔۔ ہر کتاب میں ماں کے بارے میں مضمون شامل کیا ہے۔ “

            تیسری بار، جب ایک سال ان کے سکول کے بچے نویں اور دسویں کے امتحان نہ دے سکے، کیوں کہ جو شخص نویں دسویں کے فارم بھرتا تھا، وہ پیسے کھا گیا۔ بورڈ آفس میں بچوں کے فارم ہی نہیں گئے۔ہیڈ سر کو جب یہ معلوم ہوا تو بہت روئے۔ میری دانست کے مطابق یہی  وہ صدمہ تھا، جسے وہ برداشت نہ کرسکے۔ اس صدمے نے انھیں مزید بیمار کر دیا ۔ آخری وقت میں وہ اتنے بیمار ہوگئے کہ سکول بھی نہیں آسکتے تھے۔



استاد کی عظمت کا واقعہ:

            ایک بار مجھے کہا ، ” نعیم الرّحمان! ہم گاؤں میں رہتے تھے۔ میں بہت چھوٹا تھا۔ ایک بار دادی ماں نے مجھے تاروں بھری رات میں کہا، ”بیٹا ! جو استاد کا بچا ہوا پانی پیتا ہے، وہ استاد کی طرح قابل ہو جاتا ہے۔ میراسکول گاؤں سے کافی دور تھا۔ میلوں سفر کرکے سکول جاتا تھا۔ سکول ایسا تھا کہ نہ ڈیسک تھے، نہ پانی۔آبادی سے کافی دور تھا۔ گویا ہم جنگل میں پڑھتے تھے۔  ہم نیچے چٹائی پر بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ استاد صاحب کو پیاس لگتی  تو کہتے، ” میرے لیے پانی کون لائے گا؟“

میں  ہاتھ کھڑا کر دیتا۔ استاد صاحب مجھے پانی لانے کے لیے بھیجتے۔ میں بہت دور سے پانی لاتا تھا اور گلاس لبالب بھر دیتا تھا۔ وہ اس لیے کہ استاد صاحب کچھ پانی بچا دیں۔ تاکہ میں وہ پانی پی سکوں اور استا د کی طرح قابل بن سکوں۔  پھر اس گلاس کو لے کر آہستہ آہستہ چلتا تھا، تاکہ پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرے۔ استاد صاحب کبھی کبھار تو پورا پانی پی لیتے تھے۔ کبھی کبھار کچھ بچا دیتے تھے تو میں  جلدی جلدی وہ پانی پی لیتا تھا۔ “ جب مجھے انھوں نے یہ واقعہ سنایا تو میں سوچنے لگا کہ پہلے کے شاگرد کتنے اچھے ہوتے تھے ! اساتذہ کی کتنی عزت کرتے تھے!  افسوس ! نہ اب وہ استاد رہے، نہ وہ شاگرد!



فیس معاف نہیں کی:           

            ایک بار ہیڈ سر اور میں آفس میں کام کر رہے تھے۔ اچانک ایک عورت آئی۔ اس نے   اپنےہاتھوں میں ایک بچہ بھی اٹحا رکھا تھا۔ آتے ہیں ہیڈ سر سے کہا،”میرے بچے کی فیس معاف کردو۔“ ہیڈ سر نے عورت  کو دیکھا اور مختصراً کہا،”فیس معاف نہیں ہوگی۔“ یہ کہہ کر کام میں لگ گئے۔ عورت کچھ دیر وہیں کھڑی رہی۔ پھر چلی گئی۔ اتفاق سے  دوسرے دن پھر وہی عورت آگئی۔ اس نے کہا،” چلو آپ فیس معاف نہ کریں۔ فیس میں کچھ کمی کر دیں۔ “ ہیڈ سر نے کہا،” نہیں ، فیس میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔“ عورت غریب لگ رہی تھی۔ مجھے حیرت ہوئی۔ میری خواہش تھی کہ ہیڈ سر اس عورت کے بچے کی فیس میں تخفیف کر دیں ، مگر ہیڈ سر نے ایسا نہیں کیا۔ تیسرے دن پھر وہی عورت آئی۔ اس نے پھر ہیڈ سر سے فیس میں تخفیف کی گزارش کی۔ ہیڈسر نے اس عورت سے کہا،”تم دن میں گٹکا کتنے کا کھا لیتی ہو؟“ دراصل وہ عورت پان یا گٹکا کھاتی تھی۔ اس کےجواب میں اس نے شاید پچاس یا سو کہا، مجھے صحیح یاد نہیں ہے۔ ہیڈ سر نے کہا، ”گٹکا کھانا چھوڑ دو۔ ان پیسوں کو جمع کرو اور بچے کی فیس بھر دیا کرو۔ گٹکاتمھاری صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔“یہ سنتے ہی عورت وہاں سے رفو چکر ہوگئی۔

حرف ِ آخر:

            ہمار ے ہیڈ سر اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ میری دعا  ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔  باتیں تو اور بھی بہت ساری ہیں، لیکن طوالت کا خوف لا حق ہے۔ سو اسی پر اکتفا کر رہا ہوں۔مجھے ہیڈ سر سے متعلق پانچ قسطوں پر مشتمل مضامین لکھنے کا خیال اس لیے بھی آیا کہ اگرچہ انھوں نے بہت سے کارنامے سر انجام دیے، لیکن ان کے انتقال کے بعد انھیں اس طرح خراج ِ تحسین پیش نہیں کیا گیا، جس طرح کرنا چاہیے تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ کم ازکم ان کے اپنے علاقے یعنی لیاری کے تعلیمی حلقوں  اور پروگراموں میں ان کی خدمات کو سراہا جائے۔ انھوں نے لیاری جیسے علاقے میں برائٹ پبلک سکول جیسے معیاری تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے کئی کتابیں مرتب کیں۔ ان کی تعلیمی خدمات کو ضرور سراہنا چاہیے۔


”ہمارے ہیڈ سر “ کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قسط نمبر3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قسط نمبر 4 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ 

میری تمام تحریریں اور شاعری پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 

ٹیگز: آئی ٹی، ادبی، اسلامی، بین الاقوامی،تاریخی،تعلیمی،شخصیات، طنز و مزاح، کتابیں ، معاشرتی، ملی ، میری شاعری، نعیمیات

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 2)

چھوٹوں کی کرپشن

اتحاد و اتفاق