اشاعتیں

2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 3)

تصویر
  (28 دسمبر 2025ء  کی نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کےآخر میں دی گئی لنک پر کلک کریں۔ ) تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 3 (اس تحریر کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں، قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں, قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں اور آخری قسط پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں۔ ) چودھری اسلم کا آپریشن فلم 'دھرندر' میں بھارت کے معروف ادا کار سنجے دت نےچودھری اسلم کا کردار ادا کیا ہے۔ میرے دوست منیر نے مجھے بتایا کہ چودھری اسلم کو سنجے دت پسند تھے۔ پچھلے دنوں ایک بھارتی یوٹیوبر کی وڈیو دیکھ رہا تھا۔ وہ بتا رہے تھے کہ چودھری اسلم کہا کرتے تھے کہ میں کوئی ایسا کام کرجاؤں گا کہ میرے مرنے کے بعد مجھ پر فلمیں بنیں گی۔ جن دنوں چودھری اسلم نے عزیر بلوچ کے خلاف آپریشن کیا تھا، ان دنوں میں لیاری میں ہی رہتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ چودھری اسلم اور ان کی پوری ٹیم چیل چوک(لیاری )کے قریب کھڑی تھی۔ وہ لوگ وہاں سے خوب فائرنگ کررہے تھے۔ لیاری کے حالات انتہائی خراب ہوگئے تھے۔ جب چودھری اسلم کی ٹیم فائرنگ کرتی تو عزیر بلوچ کے ہا...

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 2)

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 2 (21 دسمبر 2025ء بروز اتوار کی نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں موجود لنک پر کلک کریں۔) (اس تحریر کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں، قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں, قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں اور آخری قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ ) عزیر بلوچ   گینگ وار میں کیسے آئے ؟ عزیر بلوچ کو ان کے والد کے قتل سے پہلے زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے۔ ان کے والد کا نام فیض بلوچ تھا۔ فیض بلوچ ٹرانسپورٹرتھے۔ ان کی بہت سے بسیں تھیں، جو کراچی سے دیگر علاقوں میں جاتی تھیں۔ان کی بسوں کا اسٹاپ لیمارکیٹ میں تھا۔ ان کی بسوں کے پیچھے'الفیض' لکھا ہوتا تھا۔   فیض بلوچ کو حاجی لال محمد عرف حاجی لالو کے بیٹے ارشد عرف پپو نے   بے دردی سے قتل کر دیا۔اہل ِ علاقہ کہتے ہیں کہ حاجی فیض اپنے گھر کے باہر دوستوں کے ساتھ بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ اتنے میں ایک گاڑی رکی، کچھ لوگ گاڑی سے نکلے اور فیض بلوچ کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ فیض صاحب جانے لگے تو یاروں دوستوں نے انھیں منع کیا کہ نہ جائیں ۔ ان...

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر1)

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر1 (اس تحریر کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں، قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں, قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں اور آخری قسط پڑھنے کے لیے  یہاں  کلک کریں۔ ) پچھلے کئی دنوں سے سوشل میڈیا   پربھارت سے رلیز ہونے والی نئی فلم 'دھرندر' کی بازگشت سن رہا ہوں۔ چوں کہ میں نے یہ فلم نہیں دیکھی ہے، اس لیے مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس نوعیت کی ہے؛ البتہ سوشل میڈیا پر گردش ہونے والی پوسٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پاکستان مخالف فلم ہے۔ شنید یہ بھی ہے کہ سندھ حکومت   نے اس کے جواب میں 'میرا لیاری' نام کی ایک فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں پاکستان اور خاص طور پر کراچی کے علاقے لیاری کے مثبت پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے گا۔ اکشے کھنّابھارت کے ادا کار ہیں۔ 'دھرندر' میں انھوں نے لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار   عبد الرّحمان   بلوچ کا کر دار ادا کیا ہے۔ اکشےکھنّا بھارت کے فلوپ ادا کار سمجھے جاتے ہیں، لیکن 'دھرندر' نے انھیں بام ِ عروج پر پہنچا دیا ہے۔ بھارت کے معروف ادا کارسنجے دت نے ...

چھوٹوں کی کرپشن

تصویر
  (نوٹ: 14 دسمبر 2025ء کی اہم نوکریوں کی پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں موجود لنک کو وزٹ کریں۔) پکوڑے، سموسے والا میں پکوڑے اور سموسے بیچتا ہوں۔ میرا کام بہت اچھا ہے۔ میں بہت ایمان دارہوں۔ میری ایمان داری کا ہی صلہ ہے کہ علاقے میں میرا نام بن گیا ہے۔ اب لوگ ساجد سویٹس سےسموسے لینے کے لیے نہیں جاتے۔ حالاں کہ وہ مٹھائی کی بڑی دکان ہے۔ وہاں سموسےبنانے کے لیے تین کاریگر رکھے گئے ہیں۔ بھائی، محنت جو کی   ہے میں نے! نام تو بنے گا ناں! چھوٹے ، بڑے، مرد، عورتیں ، سبھی میرا پکوڑے سموسے شوق سے کھاتے ہیں۔   اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ایمان دار ہوں۔ میری ایمان دار مثالی ہے، مگر۔۔۔۔ کیا کریں، مہنگائی بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں معیاری تیل استعمال نہیں کرتا ۔ بازار سے سستے سے سستا اورغیر معیاری تیل خرید لاتاہوں۔ اسی سے پکوڑے سموسے بناتا ہوں۔ بھائی میرا کام تو چل رہا ہے ناں! اگر اس سے   لوگوں کی صحت پراثر پڑتا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں!کام چل رہا ہے، چلنے دو۔   ہاں!ایک اور کا م بھی میں کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ شام کے وقت، جب میں دکان بند کرتا ہوں تو ڈٖھیر ...

اتحاد و اتفاق

تصویر
(7 دسمبر 2025ء بروز اتوار کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے نیچے دی گئی لنک پر کلک کریں.) چلیں ، آج کی تحریر میں دو عالموں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان دو عالموں کے مابین جو بات چیت ہوئی، اس سے ہم سب کو سبق   حاصل کرنا چاہیے۔ ان میں سے ایک عالم مفتی شفیع ؒ ہیں اور دوسرے مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ ہیں۔ یہ دونوں دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں اپنے زمانے کے بڑے علماء میں سے تھے۔ مفتی شفیعؒ موجودہ دور کے معروف عالم ِ دین مفتی تقی عثمانی صاحب کے والد محترم تھے۔                 مفت ی شفیعؒ فرماتے ہیں کہ قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھا اور سیّدی حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ   بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے، ایک سال اسی جلسہ پر تشریف لائے، میں بھی اپ کے ساتھ تھا ۔ ایک صبح نمازِ فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا ۔ حضرت کیسا مزاج ہے   ؟ کہاں ہاں! ٹھیک ہی ہے میاں ، مزاج کیا پوچھتے ہو، عمرضائع کر دی۔ ...

علم و حکمت

تصویر
علم وحکمت (نوٹ: آج کی نوکریوں کی پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں موجود لنک پر   کلک کریں۔) میں ہوٹل میں بیٹھا اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا۔ سردی کا موسم تھا۔ ہماری طرح اس نے بھی اپنے کانوں پر رومال لپیٹ رکھا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنا منھ بھی چھپا رکھا تھا۔ اس کی آنکھیں دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ نشئی ہے۔ وہ ہمارے قریب بیٹھ گیا۔   تھوڑی دیر بعد وہ گویا ہوا، ”بھگوت گیتا   کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب ہے۔ “ میں اس کی یہ بات سن کر حیران ہوگیا۔ اسے بھگوت گیتا کے بارے میں بھی معلوم تھا۔ مجھے شک ہوا کہ کہیں یہ ہندو نہ ہو۔ میں نے اس سے نام پوچھا۔ اس کا نام مسلمانوں والا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اس چرسی کو بھگوت گیتا کے بارے میں کیسے معلوم ہے۔ میرے ذہن میں مختلف سوالات گردش کرنے لگے۔ مثلاً یہ شخص کو بھگوت گیتا کے بارے میں کیوں کر جانتا ہے ؟   یہ تو چرسی ہے ۔کیا اس   نے بھگوت گیتا پڑھی ہے ؟ یہ نشئی ہوکر بھی ہندو مذہب   کی مقدّس کتاب کےبار ے میں جانتا ہے؟ یہ اور اس جیسے دیگر سوالوں نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔   ...

نیک کردار کافر

تصویر
 (نوٹ: 4 جنوری 2026ء بروز اتوار کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس مضمون کے آخر میں موجود لنک کو وزٹ کریں۔) حضرت ام ِّ سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا امہات المومنین میں سے ہیں۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا ابتدائی مسلمانوں میں سے ہیں۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کا اصل نام ہند بنت امیہ تھا۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے اپنے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے   ساتھ   حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی تھی۔ یعنی آپ ان عظیم شخصیات میں سے ہیں، جنھیں   مدینہ منورہ کے ساتھ ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے شوہر کا اصل نام عبد اللہ بن عبد الاسد تھا۔ وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پھوپھی برۃ بنت عبد المطلب کے بیٹے تھے۔ عبد اللّٰہ بن عبد الاسد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نہ صرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے، بلکہ رضاعی بھائی بھی تھے۔   یہ بھی پڑھیے: سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ اور حجاج بن یوسف کے درمیان ہونے والا تاریخی مکالمہ حضرت ام سلمہ   رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی ہجرت مدینہ کا واقعہ بڑا درد انگیز ہے۔ جب آ...