اشاعتیں

نومبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

علم و حکمت

تصویر
علم وحکمت (نوٹ: آج کی نوکریوں کی پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں موجود لنک پر   کلک کریں۔) میں ہوٹل میں بیٹھا اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا۔ اچانک ایک شخص آیا۔ سردی کا موسم تھا۔ ہماری طرح اس نے بھی اپنے کانوں پر رومال لپیٹ رکھا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنا منھ بھی چھپا رکھا تھا۔ اس کی آنکھیں دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ نشئی ہے۔ وہ ہمارے قریب بیٹھ گیا۔   تھوڑی دیر بعد وہ گویا ہوا، ”بھگوت گیتا   کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب ہے۔ “ میں اس کی یہ بات سن کر حیران ہوگیا۔ اسے بھگوت گیتا کے بارے میں بھی معلوم تھا۔ مجھے شک ہوا کہ کہیں یہ ہندو نہ ہو۔ میں نے اس سے نام پوچھا۔ اس کا نام مسلمانوں والا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ اس چرسی کو بھگوت گیتا کے بارے میں کیسے معلوم ہے۔ میرے ذہن میں مختلف سوالات گردش کرنے لگے۔ مثلاً یہ شخص کو بھگوت گیتا کے بارے میں کیوں کر جانتا ہے ؟   یہ تو چرسی ہے ۔کیا اس   نے بھگوت گیتا پڑھی ہے ؟ یہ نشئی ہوکر بھی ہندو مذہب   کی مقدّس کتاب کےبار ے میں جانتا ہے؟ یہ اور اس جیسے دیگر سوالوں نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔   ...

نیک کردار کافر

تصویر
 (نوٹ: 4 جنوری 2026ء بروز اتوار کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس مضمون کے آخر میں موجود لنک کو وزٹ کریں۔) حضرت ام ِّ سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا امہات المومنین میں سے ہیں۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا ابتدائی مسلمانوں میں سے ہیں۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کا اصل نام ہند بنت امیہ تھا۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے اپنے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے   ساتھ   حبشہ کی طرف بھی ہجرت کی تھی۔ یعنی آپ ان عظیم شخصیات میں سے ہیں، جنھیں   مدینہ منورہ کے ساتھ ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے شوہر کا اصل نام عبد اللہ بن عبد الاسد تھا۔ وہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پھوپھی برۃ بنت عبد المطلب کے بیٹے تھے۔ عبد اللّٰہ بن عبد الاسد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نہ صرف نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے، بلکہ رضاعی بھائی بھی تھے۔   یہ بھی پڑھیے: سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ اور حجاج بن یوسف کے درمیان ہونے والا تاریخی مکالمہ حضرت ام سلمہ   رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کی ہجرت مدینہ کا واقعہ بڑا درد انگیز ہے۔ جب آ...

سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ اور حجاج بن یوسف کے درمیان ہونے والا تاریخی مکالمہ

تصویر
(18 جنوری 2026ء بروز اتوار کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں دی گئی لنک پر کلک کریں) سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ مشہور و معروف تابعی ہیں۔ آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ نے کھل کر حکومت وقت کی مخالفت کی۔ یہ بات حکومتی کارندوں کو پسند نہ آئی۔ انھیں اموی حکومت کے مشہور ظالم گورنر حجاج بن یوسف نے شہید کروایا۔ یہ اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کا دور حکومت تھا۔  شہادت سے قبل سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ اور حجاج بن یوسف کے مابین ایک تاریخی مکالمہ ہوا۔ یہ مکالمہ تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوا۔ یہ مکالمہ حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللّٰہ علیہ کی بے خوفی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مکالمہ بتاتا ہے کہ اللّٰہ کے نیک بندے صرف اللّٰہ سے ڈرتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ظالم بادشاہوں اور اس کے کارندوں کا خوف نہیں ہوتا۔ اس مکالمے سے حضرت سعید بن جبیر کی حاضر جوابی کا بھی بہت خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آئیے، تاریخ کا یہ ان مول مکالمہ پرھتے ہیں۔  یہ بھی پڑھیے: رویہ حجاج: تیر انام کیا ہے؟ سعید: میر انام سعید ہے۔ حجاج: کس کا بیٹا ہے ؟  سعید : جبیر کا بیٹا ہوں (سعید کا ترجمہ نیک بخت ہے اور جبیر کے معنی ...

رویّہ

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائقؔ (نوٹ: 23 نومبر بروز اتوار کی نوکریوں کی پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں موجود لنک پر   کلک کریں۔) اسے بچوں کا ب فارم بنوانا تھا۔ وہ نادرا کے آفس میں گیا۔ کافی تگ و دو کے بعد افسر تک پہنچا۔ افسر نے عینک لگا رکھی تھی۔ اس کے سامنے کمپیوٹر تھا۔ غرور و تکبّر کے مارے افسر نے اسے دیکھنا بھی گوارا نہ کیا۔ کرسی ہونے کے باوجود افسر نے اسے یہ نہیں کہا کہ بیٹھ جائیں۔ وہ کھڑا رہا۔ افسر نے اس سے کاغذات لیے اور کمپیوٹری کا رروائی کرنے لگا۔ اس نے افسر سے کہا، ”سر نام وغیرہ د رست لکھیے گا۔ “ افسر کو اس کی بات پسند نہ آئی۔ کہنے لگا، ”ہم یہاں جھک مارنے کے لیے بیٹھے ہیں؟ تم کیسی بات کر رہے ہو؟“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا، ”سر، یہ بات نہیں ہے۔ ہمارے گاؤں میں ایک بچے کی عمر ب فارم میں   آپ نے دس سال کم کردی ہے۔جس کی وجہ سے بچے کو سکول میں داخلہ نہ مل سکا۔   اس کے علاوہ ایک دوست نے بتایا کہ آپ نےان کے بچوں کے ب فارم میں   بڑے بھائی کو چھوٹا بنادیا ہے اور چھوٹے کو بڑا بنا دیا ہے۔ رشوت، دفتری کارروائیوں ، افسروں کے نخروں اور وقت کے ضیاع کے ڈر س...

نویں جماعت کی اردو (پنجاب بورڈ)کے نہایت آسان نوٹس PDF میں

تصویر
  میں گزشتہ دس یا گیارہ مہینوں سے اپنے یوٹیوب چینل پر پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کی منظور کردہ جماعتِ نہم کی اردو کی کتاب پر وڈیوز بنا رہا تھا۔ الحمد للہ ، اب یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔   میں وڈیوز کے ذریعے امتحانات میں آنے والے تمام سوالوں کے متعلق نوٹس فراہم کر چکا ہوں۔             شروع شروع میں میرا ارادہ تھا کہ بس یوٹیوب پر وڈیوز کے ذریعے نوٹس فراہم کردوں گا۔ پھر میرے پاس طلبہ، اساتذہ اور والدین کی طرف سےآرا آئیں کہ آپ ان نوٹس کی پی ڈی ایف فراہم کردیا کریں۔ کیوں کہ وڈیوز کے ذریعے مواد کو یاد کرنا اور نوٹ کرنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔اس مسئلے کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے میں نے وڈیوز کے ساتھ ساتھ پی ڈی ایف بھی فراہم کرنا شروع کردیں۔             فی الحال میرے نوٹس سافٹ کاپی   میں دست یا ب ہیں۔ ان شاء اللہ مستقبل میں ہارڈ کاپی پر بھی کام کرنے کا ارادہ ہے۔ اب طلبہ، اساتذہ اور والدین کی طرف سے ہارڈ کاپی فراہم کرنے کا کہا جارہا   ہے۔ میرے اردو کے ...

سر زبیر بلوچ

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق کراچی کے جن احباب کو اب بھی میں شدّت سے یاد کرتا ہوں ، ان میں سے ایک سر زبیر بلوچ ہیں۔ کراچی وہ شہر ہے، جہاں میری زندگی کے کم و بیش انتیس سال گزرے ۔ جہاں کسی انسان کی زندگی کے انتیس سال گزرے ہوں ،وہاں کی یادوں اور وہاں کے   مخلص احباب کو کیوں کر فراموش کیا جا سکتا ہے؟کراچی میرا وہ ماضی ہے، جسے میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس شہر نے مجھ سے بے وفائی برتی۔ بدلے میں میں نے بھی اس سے وفا نہیں کی۔   سر زبیر میرے ان احباب میں سے ہیں جو اب بھی مجھ سے رابطہ کرتے ہیں۔ حال احوال پوچھتے ہیں۔ علیک سلیک کرتے ہیں۔ مجھے اس وقت بہت خوشی ہوتی ہے،جب کراچی سے کوئی   جاننے والا مجھ سے رابطہ کرتا ہے۔سندھی کے پیپر وہ اب بھی مجھ سے کمپوز کرواتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سندھی کمپوزنگ میں نے ہیڈوے سکول (س ر زبیرکے سکول کا نام) سے ہی سیکھی تھی۔ جن دنوں میں ہیڈ وے گرامر سکول میں کمپیوٹر آپریٹر تھا، سر نے مجھے سندھی کی ایک کتاب کا مسودہ تھما دیا۔کہا، اسے کمپوز کرو۔ مجھے سندھی کمپوزنگ کا 'ککھ' نہیں آتا تھا۔ سر میری ہمت بندھاتے تھے۔ کہتے تھے، سیکھ لو ...