اشاعتیں

آرٹس گروپ کی کتابوں کا فقدان

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق پچھلے دنوں میں نویں جماعت کی جنرل سائنس کی کتاب لینے بازار میں گیا، مگر یہ کتاب مجھے نہیں ملی۔ جب میں بازار کی   سب سے بڑی دکان میں گیا   تو ان سے کہا، ”سر، اگر آپ کے پاس یہ کتاب نہیں ہے تو آپ مجھے   لاہور سے منگوا کر دے دیں۔“ انھوں نے کہا، ”ہمارا مال لاہور سے ہی آتا ہے۔یہ کتاب لاہور میں ہی نہیں ہے۔“ مجھے نہیں معلوم کے کتب فرو ش سچ بو ل رہے تھے یا جھوٹ، مگر مجھے حیرت کا ایک شدید جھٹکا ضرور لگا۔اتنی اہم کتاب پوری مارکیٹ میں نہیں تھی۔ بچے کہا ں سے پڑھیں؟ کیسے تیاری کریں؟کہاں جائیں ؟حقیقت تو یہ ہے کہ آرٹس گروپ کے طلبہ کا کوئی پرسان ِ حال نہیں ہے۔ یہ بے چارے بڑی مشکلوں سے پڑھتے ہیں۔ ان کو تو کتابیں بھی   وقت پر نہیں ملتیں۔ یہ کبھی کتابوں کی پرانی دکانوں کے چکر لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں تو کبھی یاروں دوستوں کے پاس کہ شاید ان کے ہاں ایک آدھ کتاب مل جائے۔ اساتذہ   اور دکان دار ان کی حوصلہ شکنی کرنے کو اپنے لیے فرض سمجھتے ہیں۔ ان کو کہا جاتا ہے کہ تم نے آرٹس کیوں لی؟ آرٹس کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں ہے۔   حالاں کہ یہ حقیقت نہیں ہے۔سائنس...

نعیمیات

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 3   ·        ہر وہ شخص غریب ہے، جس کا دل غریب ہے۔ ہر وہ شخص   امیر ہے ، جس کا دل امیر ہے۔ ·        ہرشکر گزار آدمی کے رزق میں وسعت ہے۔ ہر ناشکرے شخص کے رزق میں تنگی ہے۔ ·        بے شک حقیقی سکون اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔ ·        رب تعالیٰ کے ہاں مقبولیت چاہتے ہیں تو انسانوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کیجیے۔ ·        جو عزت نہیں کرتا، اس کی عزت نہیں کی جاتی۔ عزت دو، عزت لو۔ ·        عاجزی رب تعالیٰ کو نہایت محبوب ہے۔ تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے۔ اس لیے عاجزی اختیار کیجیے ۔تکبر سے بچیے۔ ·        جس نے اپنی ذات کے لیے لوگوں سے مانگنا شروع کردیا ، اس نے خود پر فقر کا دروازہ کھول دیا۔

ہمارے ہیڈ سر

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق آخری قسط ہیڈ سر کے آنسو:             ہمارے ہیڈ سر کو عام طور پر سخت انسان سمجھا جاتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ بڑا سخت بندہ ہے۔ سکو ل کے بچوں اور اساتذہ بھی ایسے ہی سمجھتے تھے۔ جب تک میں طالب ِ علم تھا، دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی   یہی سمجھتارہا، لیکن جب میں ان کے ساتھ کام کرنے لگا تو میں نے مشاہدہ کیا کہ وہ سخت انسان نہیں تھے؛ بلکہ اصول پسند تھے۔ اصول پسندی تو قابل ِ تعریف خوبی ہے۔ میرا یہ خیال اس وقت مزید پختہ ہو گیا ، جب میں نے ان کو روتے ہوئے دیکھا۔ تین مواقع پر وہ اتنے روئے کہ میں بھی غم زدہ ہوگیا۔             ایک بار، جب انھوں   نے شہید حکیم محمد سعید کا ذکر کیا۔ کہنے لگے، ”ظالموں نے حکیم سعید جیسے اچھے انسان کو بھی نہیں چھوڑا۔ “             دوسری بار، جب وہ اُمّت اخبار سے مجھے ماں کی عظمت سے متعلق واقعہ سنانے لگے۔ اس وقت پھوٹ پھوٹ کر روئے۔ ایک بار مجھے کہا، ”میں ماں کی عظ...

ہمارے ہیڈ سر

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 4 ہیڈ سر کے لکھے ہوئے مواد پر نظر ِ ثانی:             شروع شروع میں ہیڈ سرنے پہلی سے آٹھویں تک کی اردو کی کتابوں کی تیاری کا کام  میرےسپرد کر دیا۔ میرے خیال میں مجھ سے پہلے ہیڈ سر پہلی ، دوسری اور تیسری   کی اردو کا مواد تیار کر چکے تھے۔ مجھے کہا کہ آپ اس مواد پر نظرِ ثانی کریں۔ مجھے ان کی عاجزی پر حیرت ہوئی۔ بے شک وہ مجھ سے زیادہ جانتے   تھے،لیکن اس کے باوجود انھوں نے میرے ذمّے یہ کا م لگا دیا۔ ”الامر فوق الادب“ یعنی ”حکم ، ادب سے بڑھ کر ہے“پر عمل پیرا ہوتے ہوئے میں یہ کام کرنے لگا۔اس کے ساتھ ساتھ چوتھی اور پانچویں کی اردو پر بھی ہیڈسر اور میں نے کام شروع کردیا۔ الحمد للہ، کچھ ہی عرصے میں پانچویں تک کی اردو کی کتابیں بن گئیں۔ ”جی، آپ کتابیں لے آئیں“             اب مسئلہ چھٹّی سے آٹھویں تک کی اردو کی   کتابوں کا تھا۔ بیماری کے باوجود ہیڈ سر نے ان کتابوں پر بھی کام شروع کردیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جتنا ک...

نویں دسویں کی ایک کتاب کی کھوج

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق لیکچر کے دوران ایک طالب ِ علم نے مجھ سے سوال کیا، ”سر ، میں نویں جماعت میں سائنس لوں یا آرٹس ؟ “ میں نے سوال پر سوال کیا، ”آپ کی دل چسپی کس میں ہے ؟“ بچے نے کہا، ”سر میری دل چسپی تو آرٹس گروپ میں ہے۔ دراصل مجھے رائٹر بننا ہے۔میری اردو بہت اچھی ہے۔ “ میں نے کہا، ”ٹھیک ہے، آپ آرٹس لے لیں۔“ بچّے نے کہا، ”سر، آرٹس کی تو کوئی اہمیت نہیں ہے۔ آج کل ہربچہ سائنس پڑھتا ہے۔“ میں نے کہا، ”تعلیم ذہنی میلان اور دل چسپی کو مدِّ نظر رکھ کر حاصل کرنی چاہیے، نا کہ لوگوں کی دیکھا دیکھی۔ لوگوں کی دیکھا دیکھی کیا جانے والا عمل نقاّلی تو ہوسکتا ہے، تعلیم نہیں۔“ بچّے نے کہا، ”سر آپ مضامین کے بارے میں بھی رہنمائی کر دیں۔ “ میں نے کہا، ”آپ دو   اختیاری مضامین میں سے    ایک ”اردو ادب“منتخب کر لیجیے گا۔ اس مضمون کو عام طور پر ”اردواختیاری“ کہا جاتا ہے۔ آپ کو بہت فائدہ ہوگا۔ آپ کی اردو مزید نکھر جائے گی۔“ بچّے نے کہا، ” کیا آپ مجھے یہ کتاب منگوا کر دے سکتے ہیں ؟ “ میں نے کہا، ” کیوں نہیں ! ان شاء اللہ، کل آپ کو کتاب مل جائے گی۔“

ہمارے ہیڈ سر

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 3 پسندیدہ اخبارات اور لکھاری              شروع شروع میں ہیڈ سر کے آفس میں روزانہ”ایکسپریس“ اخبار آتا تھا۔ ان دنوں سوشل میڈیا اتنا مشہور نہیں ہوا تھا۔ لوگوں کے گھروں میں باقاعدگی سے ان کا پسندیدہ اخبار آتا تھا ۔ اس کا یہ فائدہ ہوتا تھا کہ والدین کے ساتھ ساتھ بچّے بھی اخبار پڑھ لیا کرتےتھے۔ اتوارکے روز اکثر بڑے اخبار میں کوئی میگزین بھی ہوتا تھا۔ اس میگزین کی وجہ سے بہن بھائیوں میں خوب لڑائی ہوتی تھی۔ بڑا اچھا دور تھا۔ گھروں میں کتابیں بھی ہوتی تھیں۔  بچّے اخبارات ، میگزین اور کتابیں پڑھتے تھے۔ ان سے ان کی اردو اچھی ہوجاتی تھی۔ اب تو سب کچھ بدل گیا ہے۔ سوشل میڈیا نے ہم سے اور ہمارے بچّوں سے اخبارات اور کتابیں پڑھنے کی عادت چھین لی ہے۔ بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ ہیڈ سر شروع میں صرف ”ایکسپریس“ کا مطالعہ کرتے تھے۔بعد میں اخبارات میں ان کا شغف مزید بڑھ گیا۔ پھر وہ ”ایکسپریس“ کے ساتھ ساتھ ”امت “ کا بھی مطالعہ کرنے لگے۔ اس کے علاوہ ”القلم“ کا بھی مطالعہ کرتے تھے۔ ”القلم “ ہفتے می...

ہمارے ہیڈ سر

تصویر
  تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 2 ہیڈ سر کی طرف سے انعام             میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا۔ سر عبد الوہاب ہمیں انگلش گرامر پڑھاتے تھے۔وہ بہت اچھے طریقے سے گرائمر سمجھاتے تھے۔   ان کے گھنگریالے بال تھے   اور وہ چشمہ پہنتے تھے۔ وہ ہمیں Parts of Speech سمجھاتے تھے۔ پہلے  انھوں نے Noun   کے بارے میں سمجھایا، پھر Pronoun   کے بارے میں ۔ غالباً جب وہ Adjective   پر پہنچے تو انھوں نے کہا: ”بچو! آج سمجھانے کے بعد آپ کا ٹیسٹ بھی لوں گا۔“ چناں چہ سمجھانے کے بعد ہماری استعداد کے مطابق انھوں نے ٹیسٹ لیا۔ میں نے سب سے اچھا ٹیسٹ دیا۔ ہمارے سکول میں ٹیسٹ کے لیے الگ سے کاپی ہوتی تھی۔ انگلش ٹیسٹ کی الگ کاپی ہوتی تھی۔ جب کہ اردو اور اسلامیات   کا ٹیسٹ ایک ہی کاپی میں ہوتا تھا۔ سرعبد الوہا ب نے میرا ٹیسٹ چیک کیا تو بالکل درست تھا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر وہ کاپی کے پچھلے اوراق دیکھنے لگے تو ہر ٹیسٹ میں Good, Very Good, Excellent وغیرہ جیسے ریمارکس تھے۔ وہ اور زیادہ خوش ہوئے۔   انھوں نے اپن...