ادھوری محبت

 

شاعر: نعیم الرحمان شائق

ادھورا ہوں میں

ادھوری ہے وہ

ادھورے ہیں لوگ

ادھورا سماج

ادھورا ہے سب کچھ

ادھوروں کے بیچ

ادھوری محبت کے سائے میں ہم جی رہے ہیں

فقط جی رہے ہیں!

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دھرندرمووی اور لیاری کی اصل کہانی۔۔۔لیاری میں رہنے والے کی زبانی (قسط نمبر 2)

چھوٹوں کی کرپشن

اتحاد و اتفاق