تحریر: نعیم الرّحمان شائق قسط نمبر 2 (21 دسمبر 2025ء بروز اتوار کی نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں موجود لنک پر کلک کریں۔) (اس تحریر کی قسط نمبر 1 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں، قسط نمبر 2 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں, قسط نمبر 3 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں اور آخری قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ ) عزیر بلوچ گینگ وار میں کیسے آئے ؟ عزیر بلوچ کو ان کے والد کے قتل سے پہلے زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے۔ ان کے والد کا نام فیض بلوچ تھا۔ فیض بلوچ ٹرانسپورٹرتھے۔ ان کی بہت سے بسیں تھیں، جو کراچی سے دیگر علاقوں میں جاتی تھیں۔ان کی بسوں کا اسٹاپ لیمارکیٹ میں تھا۔ ان کی بسوں کے پیچھے'الفیض' لکھا ہوتا تھا۔ فیض بلوچ کو حاجی لال محمد عرف حاجی لالو کے بیٹے ارشد عرف پپو نے بے دردی سے قتل کر دیا۔اہل ِ علاقہ کہتے ہیں کہ حاجی فیض اپنے گھر کے باہر دوستوں کے ساتھ بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ اتنے میں ایک گاڑی رکی، کچھ لوگ گاڑی سے نکلے اور فیض بلوچ کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔ فیض صاحب جانے لگے تو یاروں دوستوں نے انھیں منع کیا کہ نہ جائیں ۔ ان...
(نوٹ: 14 دسمبر 2025ء کی اہم نوکریوں کی پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے اس تحریر کے آخر میں موجود لنک کو وزٹ کریں۔) پکوڑے، سموسے والا میں پکوڑے اور سموسے بیچتا ہوں۔ میرا کام بہت اچھا ہے۔ میں بہت ایمان دارہوں۔ میری ایمان داری کا ہی صلہ ہے کہ علاقے میں میرا نام بن گیا ہے۔ اب لوگ ساجد سویٹس سےسموسے لینے کے لیے نہیں جاتے۔ حالاں کہ وہ مٹھائی کی بڑی دکان ہے۔ وہاں سموسےبنانے کے لیے تین کاریگر رکھے گئے ہیں۔ بھائی، محنت جو کی ہے میں نے! نام تو بنے گا ناں! چھوٹے ، بڑے، مرد، عورتیں ، سبھی میرا پکوڑے سموسے شوق سے کھاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں ایمان دار ہوں۔ میری ایمان دار مثالی ہے، مگر۔۔۔۔ کیا کریں، مہنگائی بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں معیاری تیل استعمال نہیں کرتا ۔ بازار سے سستے سے سستا اورغیر معیاری تیل خرید لاتاہوں۔ اسی سے پکوڑے سموسے بناتا ہوں۔ بھائی میرا کام تو چل رہا ہے ناں! اگر اس سے لوگوں کی صحت پراثر پڑتا ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں!کام چل رہا ہے، چلنے دو۔ ہاں!ایک اور کا م بھی میں کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ شام کے وقت، جب میں دکان بند کرتا ہوں تو ڈٖھیر ...
(7 دسمبر 2025ء بروز اتوار کی اہم نوکریاں دیکھنے کے لیے اس تحریر کے نیچے دی گئی لنک پر کلک کریں.) چلیں ، آج کی تحریر میں دو عالموں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان دو عالموں کے مابین جو بات چیت ہوئی، اس سے ہم سب کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ان میں سے ایک عالم مفتی شفیع ؒ ہیں اور دوسرے مولانا انور شاہ کاشمیری ؒ ہیں۔ یہ دونوں دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں اپنے زمانے کے بڑے علماء میں سے تھے۔ مفتی شفیعؒ موجودہ دور کے معروف عالم ِ دین مفتی تقی عثمانی صاحب کے والد محترم تھے۔ مفت ی شفیعؒ فرماتے ہیں کہ قادیان میں ہر سال ہمارا جلسہ ہوا کرتا تھا اور سیّدی حضرت مولانا سید انور شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اس میں شرکت فرمایا کرتے تھے، ایک سال اسی جلسہ پر تشریف لائے، میں بھی اپ کے ساتھ تھا ۔ ایک صبح نمازِ فجر کے وقت اندھیرے میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے بہت مغموم بیٹھے ہیں۔ میں نے پوچھا ۔ حضرت کیسا مزاج ہے ؟ کہاں ہاں! ٹھیک ہی ہے میاں ، مزاج کیا پوچھتے ہو، عمرضائع کر دی۔ ...
تبصرے